10 ستمبر 2026 - 11:27
حسن عزالدین: جنوبی لبنان میں بہنے والے خون میں لبنانی حکومت بھی ملوث ہے

لبنانی پارلیمنٹ میں وفاداری برائے مزاحمت بلاک کے رکن حسن عزالدین نے اسرائیلی حملوں پر لبنانی حکومت کی خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں بہنے والے خون کی ذمہ داری سیاسی قیادت پر بھی عائد ہوتی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حسن عزالدین نے کہا کہ المنصوری، زبدین، کفر تبنیت اور بالخصوص کفر رمان میں اسرائیلی حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت لبنانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، لیکن لبنانی حکام نے اس صورتحال پر مؤثر آواز نہیں اٹھائی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان ہی نہیں بلکہ ضاحیہ، بقاع اور ملک کے کسی بھی حصے میں بہنے والے خون کی ذمہ داری بھی حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ دشمن کو دی جانے والی ہر نئی رعایت کے ساتھ اسرائیل مزید شدت اور بے رحمی سے قتل و غارت، تباہی اور بے دخلی کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔

حسن عزالدین نے سوال اٹھایا کہ کیا لبنانی قیادت نے خطے کی بدلتی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا ہے؟ کیا بیروت نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات پر غور کیا ہے؟ اور کیا اسرائیلی جرائم کے تسلسل کے باوجود اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا راستہ اب بھی جاری رکھا جائے گا؟

انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات سے لبنان نہ حقیقی جنگ بندی حاصل کرسکا اور نہ اسرائیلی حملوں، تباہی اور شہریوں کی بے دخلی کا سلسلہ رک سکا۔

عزالدین نے ایران کے کردار پر بھی بات کرتے ہوئےکہا کہ ایران اب صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے اور دنیا کے مظلوموں اور آزاد اقوام کی حمایت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی مزاحمت نے امریکی بالادستی اور خطے میں خوف و دہشت کی پالیسی کو چیلنج کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدلتی علاقائی صورتحال میں ایران کو خلیج فارس اور خطے کی سلامتی کے معاملات میں نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کے بقول ایران ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھرا ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حسن عزالدین نے مزید کہا کہ خطے میں ہونے والی موجودہ تبدیلیاں لبنان پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گی، جبکہ ایران نے ماضی اور مستقبل کے مذاکرات میں لبنان کی صورتحال کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha