اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی حکومت نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف دو ریاستی حل کی حمایت کافی نہیں بلکہ اس کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
برطانوی حکومت کے مطابق غزہ میں شہریوں، بالخصوص بچوں کی مسلسل شہادت اور بڑے پیمانے پر تباہی نے انسانی بحران کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ لندن نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں مجوزہ E1 رہائشی منصوبے کو بھی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ لندن کے مطابق اس منصوبے سے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ ہے، جس سے مستقبل میں آزاد فلسطینی ریاست کا قیام مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں برطانیہ نے اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات کے ایک نئے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی تجارت پر پابندی، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق برطانوی سرکاری مؤقف میں تبدیلی، بستیوں کی تعمیر کی حمایت یا اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں اور غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافہ شامل ہے۔
برطانوی حکومت نے ساتھ ہی 7 اکتوبر 2023 کے حملے اور حماس کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس واقعے کو غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
لندن نے اسرائیلی حکومت اور برطانیہ میں مقیم یہودی برادری کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کا ذمہ دار برطانوی یہودیوں کو ٹھہرانا درست نہیں اور اسے یہود دشمنی قرار دیا۔
برطانوی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد دو ریاستی حل کے امکانات کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے ایک محفوظ اور پُرامن مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
لندن نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھانے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بننے والے اقدامات کو روکنے کے لیے اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
آپ کا تبصرہ