اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی عوامی جنرل اسمبلی نے صوبہ الجوف کے شہر الحزم کی مرکزی جیل پر سعودی جنگی طیاروں کی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف کھلا جرم قرار دیا ہے۔
یمنی ذرائع کے مطابق سعودی فضائی حملہ پیر کے روز کیا گیا، جس کے نتیجے میں جیل میں موجود 14 قیدی شہید یا زخمی ہوئے۔ متاثرین میں ایک بچہ اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے لیے آنے والے افراد بھی موجود تھے۔
یمن کی عوامی جنرل اسمبلی کی سیکریٹریٹ نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی یہ مجرمانہ جارحیت اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ سعودی نظام انسانی اور اخلاقی اقدار سے عاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ جرم 26 مارچ 2015 سے یمن کے خلاف جاری سعودی جارحیت کے دوران کیے جانے والے سابقہ جرائم کا تسلسل ہے۔
یمنی عوامی جنرل اسمبلی نے مرکزی جیل کو نشانہ بنائے جانے کو بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور عالمی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سعودی حکومت کو اس جرم اور اس کے تمام قانونی، اخلاقی اور انسانی نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیا۔
اس ادارے نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے تمام اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سعودی جارحیت کی مذمت کریں اور ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں۔
دوسری جانب جنوبی تحریک نے بھی الجوف جیل پر سعودی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’مکمل جنگی کارروائی‘‘ قرار دیا۔
جنوبی تحریک نے اپنے بیان میں کہا کہ یمنی عوام کے خلاف یہ جارحیت خطے کی اقوام کو زیرِ تسلط لانے اور قبضے و جارحیت کے منصوبوں کو مسلط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
تحریک نے جنوبی اور مشرقی مقبوضہ صوبوں کے عوام کی مرضی کو مسخ کرنے اور وہاں جارح قوتوں، محاصرے اور قابض عناصر کو مسلط کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کو یمن کے کسی بھی حصے کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
جنوبی تحریک نے یمنی مسلح افواج کی جانب سے سعودی عرب کے اندر گہرائی میں سعودی مفادات اور فوجی اجتماعات کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے ’’جارحیت کے جواب میں جارحیت اور محاصرے کے جواب میں محاصرہ‘‘ کی حکمت عملی کو کامیاب قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ