اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکا اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ خطے میں کسی نئے انتخابی مرحلے کے آغاز سے پہلے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے معاملات پر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل میں اہم انتخابات ہونے والے ہیں، اس لیے مناسب وقت کا انتظار کرتے ہوئے دونوں کو مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی سے متعلق مذاکرات میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق موقع گزرنے کے بعد نئی انتخابی مہم شروع ہوجائے گی اور بات چیت مزید مشکل ہوسکتی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے ممالک ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں، اس لیے انہیں ایک دوسرے کے لیے سلامتی کا خطرہ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیلی حکام کے ان بیانات پر بھی تنقید کی جن میں ایران کو ختم کرنے تک خطے میں امن نہ آنے کی بات کی جاتی ہے۔
لاوروف نے واضح کیا کہ روس اپنے مفادات کے توازن کے بغیر کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ماسکو دیگر ممالک سے رابطوں میں تمام فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھتا ہے، لیکن روس کے قومی مفادات بھی نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔
روسی وزیر خارجہ نے مغربی ممالک پر روس کے اثاثوں کی کھلی لوٹ مار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مغرب اپنی کمزوری کے باعث مزید سخت اور جارحانہ اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اپنی ساکھ اور اتفاقِ رائے کے اصول سے محروم ہوچکا ہے اور اس کے اقدامات روس کے خلاف یک طرفہ ہوگئے ہیں۔
لاوروف نے مزید دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک روسی پارلیمانی انتخابات کی شفافیت اور عوامی رائے پر سوال اٹھانے کے لیے مختلف بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ روسی دوما کے انتخابات 20 ستمبر کو ہوں گے، جبکہ تین روزہ ووٹنگ کا عمل 18 سے 20 ستمبر تک جاری رہے گا۔
آپ کا تبصرہ