اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لیون پنیٹا نے کہا کہ امریکہ اور ایران اس وقت ایک سنگین تعطل کا شکار ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے پاس بہت محدود راستے باقی رہ گئے ہیں۔
پنیٹا نے اخبار گارجین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ جنگ کسی واضح نتیجے کے بغیر مزید چھ ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے عراق اور افغانستان کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف موجودہ تنازع بھی امریکہ کے لیے ایک اور طویل اور ناکام جنگ ثابت ہو سکتا ہے۔
سابق امریکی وزیر دفاع کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ میں ایسی صورتحال میں پھنس گئے ہیں جہاں ہر ممکن راستے کی اپنی سیاسی اور عسکری قیمت ہے۔ ان کے بقول ٹرمپ کے سامنے بنیادی طور پر تین راستے ہیں: جنگ سے دستبردار ہونا، موجودہ تعطل کو جاری رکھنا یا آبنائے ہرمز پر زیادہ جارحانہ کارروائی کرنا۔
پنیٹا نے امریکی محکمہ دفاع کی اندرونی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون میں جاری افراتفری اور کمانڈ کے ڈھانچے میں پیدا ہونے والی کشیدگی امریکہ کی عسکری صلاحیت کے بارے میں مخالفین کو کمزوری کا پیغام دے رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ