اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، چھ ماہ سے جاری جنگ کے بعد ایران کے فوجی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے اور امریکی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق تہران آئندہ ہفتوں میں کشیدگی میں بڑے اضافے کے امکانات پر غور کر سکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کا جائزہ لینے والے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کو اب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی اپنی صلاحیت پر پہلے سے زیادہ اعتماد حاصل ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کو طویل کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے تاکہ واشنگٹن کو فوجی اور سیاسی طور پر تھکایا جا سکے اور امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اندرونی سیاسی دباؤ مزید بڑھایا جا سکے۔
امریکی جائزوں میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کی جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت کو کم سمجھا۔ مسلسل فضائی حملوں اور شدید معاشی دباؤ کے باوجود تہران کی مزاحمت برقرار رہنا امریکی اندازوں کے لیے ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق نئی امریکی انٹیلی جنس معلومات میں فی الحال ایسے شواہد بہت کم ہیں جن سے ظاہر ہو کہ تہران امریکا کے ساتھ کسی جامع معاہدے کے لیے تیار ہے۔ بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ جب تک جنگ جاری رہنے کی سیاسی قیمت ٹرمپ کے لیے اندرونِ ملک بڑھتی رہے گی، ایران تنازع کو جاری رکھنا اپنے مفاد میں سمجھ سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کو خدشہ ہے ایران آنے والے ہفتوں میں جولائی جیسے اقدامات دوبارہ کر سکتا ہے، جن میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا اور کویت سمیت دیگر ممالک میں بنیادی ڈھانچے پر حملے شامل ہوسکتے ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس جائزوں میں ایران کی ممکنہ سائبر صلاحیتوں کو بھی دباؤ بڑھانے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی سرزمین کے اندر سائبر حملے بھی ایران کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی ممکنہ حکمتِ عملی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکام ایران کی فوجی صلاحیت، طویل جنگ برداشت کرنے کی استعداد اور خطے میں امریکی مفادات کو مسلسل دباؤ میں رکھنے کی صلاحیت کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ