اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران نے اپنی سرزمین پر امریکی حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری کارروائی اور امریکی حملوں کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندے غلام حسین درزی نے سلامتی کونسل کے صدر اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھ کر کہا ہے کہ یکم ستمبر کو امریکا نے جنوبی ایران کے کئی شہروں پر حملے کیے، جن میں سیریک کے علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کے دوران رہائشی مکان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی خط کے مطابق حملے میں ایک 4 سالہ بچے سمیت 4 شہری شہید اور 70 سے زائد زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کارروائی کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔
ایران نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی حملوں کو فوری طور پر رکوایا جائے، کوہستک میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنانے کے واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور شہریوں و بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات کا آئندہ رپورٹس میں بھی ذکر کیا جائے۔
خط میں ایران نے امریکا سے شہریوں کے خلاف تمام غیر قانونی اقدامات ختم کرنے اور نقصانات کا مکمل ازالہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ تہران نے واضح کیا کہ وہ اپنے دفاع کے حق کے تحت عوام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اور متناسب اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔
آپ کا تبصرہ