11 اکتوبر 2026 - 16:28
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نائب سربراہ: پاکستان یمن کے خلاف جنگ میں شریک نہ ہو

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نائب سربراہ حجۃ الاسلام سید احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ پاکستان کو یمن اور سعودی عرب کے تنازع میں کسی ایک فریق کی جنگ میں شامل ہونے کے بجائے امن کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان غیر جانب دار رہتے ہوئے مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے اختلافات حل کرانے میں کردار ادا کرے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نائب سربراہ حجۃ الاسلام سید احمد اقبال رضوی نے تنظیم کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یمن کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہیے بلکہ غیر جانب داری برقرار رکھتے ہوئے ثالثی اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے 2015 میں پاکستانی پارلیمان کی منظور کردہ قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان نے یمن کے تنازع میں فوجی شرکت نہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوشش کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی۔ اس لیے کوئی بھی نیا فیصلہ کرنے سے پہلے پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے اور اس معاملے پر کھل کر بحث کی جائے۔

سید احمد اقبال رضوی نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کے عوام کو اپنے مستقبل اور سیاسی فیصلوں کا اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے یمن پر بمباری اور اس کے محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمنی عوام شدید مشکلات اور محاصرے کے باوجود غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی عملی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، اس لیے ان کی قربانیوں اور مؤقف کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نائب سربراہ نے کہا کہ پاکستان کو یمن اور سعودی عرب کے تنازع میں کسی ایک فریق کی جنگ میں شامل ہونے کے بجائے امن کے قیام کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے یمن پر مبینہ حملوں اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ پر حملوں کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر الزامات کو عوامی جذبات بھڑکانے اور مسلمان قوموں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔

سید احمد اقبال رضوی نے پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سلامتی سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایک نئے محاذ میں داخل ہونے سے ملک کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور خطے کے دیگر مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ماضی میں افغانستان کی جنگ میں شرکت کے نتائج سے سبق سیکھنا چاہیے اور ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جو قومی مفادات، علاقائی امن اور امت مسلمہ کے اتحاد کا تحفظ کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha