29 اگست 2026 - 16:36
ٹرمپ کا ’’امریکی خلائی اکیڈمی‘‘ قائم کرنے کا اعلان، چاند سے آگے خلائی مشن بڑھانے کا عزم

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلا کی تحقیق اور دریافت کے لیے ’’امریکی خلائی اکیڈمی‘‘ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا خلائی پروگرام صرف چاند پر واپسی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا دائرہ چاند سے بھی آگے تک بڑھایا جائے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے مرکز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خلائی تحقیق اور دریافت کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے ’’امریکی خلائی اکیڈمی‘‘ قائم کرے گا۔

ٹرمپ نے خلا کے شعبے میں امریکا کی وسیع صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میدان میں واشنگٹن کو ابھی بہت سے اہم اقدامات کرنے ہیں۔

امریکی صدر نے امریکی خلائی فورس کی اہمیت پر بھی زور دیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے 2019 میں اس فورس کے قیام کے لیے ذاتی طور پر کوشش کی تھی۔

ٹرمپ نے خلائی تحقیق کے منصوبوں میں چاند پر دوبارہ انسان بھیجنے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چاند پر واپسی ایک اہم ہدف ہے، تاہم امریکی خلائی پروگرام کو صرف چاند تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اسی روز ’’امریکی خلائی اکیڈمی‘‘ کے قیام کے لیے فرمان پر دستخط کریں گے تاکہ امریکا کی خلائی سرگرمیوں کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا جاسکے۔

تقریب کے دوران ٹرمپ نے آرٹیمس-2 مشن کے چار خلابازوں کو امریکی کانگریس کا تمغۂ اعزاز بھی پیش کیا۔ انہوں نے تقریباً پانچ دہائیوں بعد انسان بردار چاند مشن کو انسانیت کے لیے ایک تاریخی واقعہ قرار دیا۔

آرٹیمس-2 مشن میں چار خلاباز شامل تھے۔ یہ مشن رواں سال یکم اپریل کو شروع ہوا اور 10 روز کے دوران زمین اور چاند کے گرد آمدورفت سمیت تقریباً 11 لاکھ 18 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا۔

مشن کے دوران خلابازوں نے خلائی جہاز کے مختلف نظاموں کی جانچ کی، چاند کے ان حصوں کی تصاویر بنائیں جو اس سے قبل مشاہدے میں نہیں آئے تھے اور مستقبل کے مشنز میں لینڈنگ کے لیے موزوں علاقوں کا بھی جائزہ لیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha