اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایک نئی رپورٹ میں سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) اور اسرائیلی حکومت کے درمیان خفیہ رابطوں اور انٹیلی جنس تعاون کے بارے میں نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ریپڈ سپورٹ فورسز کے اہم کمانڈروں، بالخصوص محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی، نے سوڈان میں جنگ شروع ہونے کے بعد بھی اسرائیل کے ساتھ اعلیٰ سطح کے روابط برقرار رکھے اور متعدد مرتبہ تل ابیب کا دورہ کیا۔
افریقہ انٹیلیجنس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ RSF کے کمانڈروں نے مئی 2025 اور فروری 2026 میں الگ الگ مواقع پر اسرائیل کا سفر کیا۔ پہلے دورے میں RSF کے نائب کمانڈر عبدالرحیم حمدان دقلو اور ان کے بھائی القونی شامل تھے، جبکہ دوسرے دورے میں تنظیم کے قانونی مشیر عزالدین صافی بھی وفد کا حصہ تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور RSF کے تعلقات اپریل 2023 میں سوڈان میں جنگ شروع ہونے کے بعد ختم نہیں ہوئے بلکہ مزید وسعت اختیار کر گئے۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کا سلسلہ 2021 سے جاری تھا، جس کے دوران اسرائیلی نگرانی کے آلات اور فوجی ٹیکنالوجی مبینہ طور پر الگ ذرائع کے ذریعے RSF تک پہنچائی جاتی رہی۔
رپورٹ میں اسرائیلی کاروباری حلقوں سے منسلک فضائی نیٹ ورکس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں بار ایوی ایشن نامی کمپنی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے ایسی کھیپوں کی منتقلی میں سہولت فراہم کی جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان میں ہتھیار بھی شامل تھے اور یہ سامان خطے میں RSF سے منسلک سپلائی چین کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
علاقائی میڈیا کے مطابق ’’افریقہ انٹیلیجنس‘‘ کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوڈان میں جنگ شروع ہونے سے قبل امریکا نے اسرائیل کی جانب سے وہاں انٹیلیجنس اہلکار تعینات کرنے اور RSF کے ساتھ قریبی تعاون کی مخالفت کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے بعد RSF کا بیرونی انٹیلیجنس، نگرانی، ہتھیاروں اور فوجی ٹیکنالوجی کے نیٹ ورکس پر انحصار مزید بڑھ گیا ہے۔ سوڈان کی جنگ میں ڈرونز اور میدانِ جنگ سے حاصل ہونے والی معلومات کی اہمیت بڑھنے کے باعث اس نوعیت کا تعاون RSF کو بعض محاذوں پر نسبتی برتری فراہم کرسکتا ہے، جبکہ اسرائیل کو بھی سوڈان کے اندر اثر و رسوخ رکھنے والے ایک مسلح فریق تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
سوڈان میں خانہ جنگی اپریل 2023 میں فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈانی مسلح افواج اور محمد حمدان دقلو کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شروع ہوئی تھی۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک بڑی تعداد میں افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ