28 اگست 2026 - 11:44
نائجیریا میں ہفتۂ وحدتِ امتِ مسلمہ کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نائجیریا میں سید ابراہیم زکزاکی کی قیادت میں اسلامی تحریک نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مقصد سے دارالحکومت ابوجا میں ’’ہفتۂ وحدتِ امتِ مسلمہ‘‘ کے عنوان سے کانفرنس کا آغاز کر دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، نائجیریا میں سید ابراہیم زکزاکی کی قیادت میں اسلامی تحریک نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مقصد سے دارالحکومت ابوجا میں ’’ہفتۂ وحدتِ امتِ مسلمہ‘‘ کے عنوان سے کانفرنس کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ پانچ روزہ سالانہ پروگرام ماہِ ربیع الاول میں منعقد کیا جاتا ہے، جس میں مختلف اسلامی مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما، دانشور اور عوام شریک ہوتے ہیں۔ کانفرنس کے دوران رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ، آپؐ کی تعلیمات اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر گفتگو کی جاتی ہے۔

تقریب کا آغاز شیخ ربیع فنتوا کی دعائے افتتاح سے ہوا۔ اس کے بعد ’’ابان سیدہ‘‘ نے تلاوتِ قرآن کریم اور تبرک کے طور پر زیارتِ رسول اکرم ﷺ پیش کی، جبکہ ’’اتحاد شعراء‘‘ گروپ نے نبی کریم ﷺ کی مدح میں نعتیہ کلام پیش کیا۔

کانفرنس کے مرکزی مقرر شیخ شریف احمد سلیجا نے ’’مکہ مکرمہ میں رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اور مسلمانوں کے غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات؛ نائجیریا کے معاشرے کے لیے اسباق‘‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں انسان کے مقام و مرتبے اور رسول اکرم ﷺ کی عظیم شخصیت کو سمجھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی انسانیت کے لیے رہنمائی اور عملی اسباق کا سرچشمہ ہے۔

شیخ شریف احمد سلیجا نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ حق و حقیقت کو روشن کرنے والی ہستی ہیں۔ بعثت سے قبل بھی اہلِ مکہ آپ ﷺ کی صداقت، امانت داری اور عدل و انصاف کے معترف تھے اور آپؐ کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے آپ کو ’’امین‘‘ کا لقب دیا گیا۔

انہوں نے غیر مسلموں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگوں کے ساتھ عدل، انسانی وقار، احترام اور حسنِ اخلاق کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

مقرر نے صحابہ کرامؓ کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کی محبت اور خصوصی توجہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آپؐ اپنے ہر ساتھی کو اس قدر محبت اور اہمیت دیتے تھے کہ ہر شخص خود کو رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین افراد میں محسوس کرتا تھا۔

شیخ شریف احمد سلیجا نے سید ابراہیم زکزاکی کی دعوتی اور اصلاحی جدوجہد کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ نائجیریا کی نجات رسول اکرم ﷺ اور اہلِ بیت اطہارؑ کی تربیتی تعلیمات کی طرف واپسی، حق و انصاف کی پاسداری اور ظلم کے خلاف استقامت میں ہے۔

انہوں نے شیخ زکزاکی کی جانب سے مشکلات اور دباؤ کے باوجود ثابت قدم رہنے کو معاشرے کے لیے ایک اہم مثال قرار دیا اور مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ راہِ خدا میں صبر، حوصلے اور استقامت کو اپنا شعار بنائیں۔

کانفرنس کے اختتام پر شیخ شریف احمد سلیجا نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا مزید سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات کو عملی طور پر معاشرے میں نافذ کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں۔

بعد ازاں شیخ ربیع فنتوا نے خطاب کے اہم نکات پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے مقرر کی جانب سے پیش کیے گئے موضوعات کی مزید وضاحت کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha