27 اگست 2026 - 16:48
واشنگٹن پوسٹ: ایران کے خلاف جنگ نے پینٹاگون کے اسلحہ ذخائر کو بحران سے دوچار کر دیا

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر امریکی اسلحے کے استعمال، 30 سے زائد جنگی بحری جہازوں کا رخ بحرالکاہل سے خطے کی جانب موڑنے اور دفاعی میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر نے واشنگٹن کے ایشیائی اتحادیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ پینٹاگون کے حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ چین کے ممکنہ مقابلے کے لیے امریکی فوجی تیاری کو کمزور کر رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اسلحے کے بڑے پیمانے پر استعمال نے ایشیا میں واشنگٹن کے اتحادیوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔ بحرالکاہل اور ہند بحرالکاہل کے خطے میں تعینات امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جاری رہنے سے چین کے ساتھ ممکنہ تصادم کے لیے امریکہ کی فوجی تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ جنگ کے دوران 30 سے زائد جنگی بحری جہازوں کا رخ، جو بحرالکاہل میں تعیناتی کے لیے مقرر تھے، مشرقِ وسطیٰ کی جانب موڑ دیا گیا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی سے متعلق یہ تشویش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے جنوبی کوریا کے ساتھ ستمبر میں ہونے والی مشترکہ بحری و بری فوجی مشق بھی منسوخ کر دی ہے۔ امریکی حکام نے اس فیصلے کی ایک وجہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں امریکی افواج پر بڑھنے والا دباؤ قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں ایک تائیوانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تائیوان کو امریکہ کی جانب سے پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی میں نمایاں تاخیر کا خدشہ ہے، کیونکہ پینٹاگون نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے میزائل شکن نظام کے لیے موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے بڑے ذخیرے کا استعمال کیا ہے۔

ایک ایشیائی سفارت کار نے بھی واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ جاپان کو پینٹاگون کی جانب سے دفاعی سازوسامان کی ترسیل میں ممکنہ تاخیر کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے، جس میں ٹاما ہاک کروز میزائل بھی شامل ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا کہ ماہرین کے نزدیک ایران کے ساتھ جنگ نے ایشیا میں امریکہ کی پوزیشن، بالخصوص چین کے مقابلے میں اس کی فوجی تیاری اور دفاعی صلاحیت پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha