اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ریاست اترپردیش میں الہ آباد کے ہائی کورٹ کے جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندر جیت شکلا کی بنچ نے کہا کہ ’’ہم نے عرضی گزار سے متعلق مختلف کلاسوں کی تصاویر دیکھی ہیں اور صرف اسے چھوڑ کر کسی بھی طالبہ نے حجاب نہیں پہنا ہے۔ یہاں تک کہ جس مذہبی برادری سے وہ تعلق رکھتی ہے، اس برادری کی طالبات نے بھی حجاب نہیں پہنا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے اسکول میں اسکارف یا حجاب پہننے کی اجازت دینے کے لیے اسکول حکام کو ہدایت جاری کرنے کی درخواست والی عرضی خارج کر دی ہے۔ پریاگ راج کے اترسوئیا تھانے کے تحت ٹیگور پبلک اسکول کی طالبہ سکینہ رضوی نے اپنی والدہ کے ذریعے یہ عرضی دائر کی تھی۔ رضوی نے اسی اسکول سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا ہے اور وہ اسی اسکول میں گیارہویں جماعت میں داخلہ لے رہی ہے۔ جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندر جیت شکلا کی بنچ نے کہا کہ ’’ہم نے عرضی گزار سے متعلق مختلف کلاسوں کی تصاویر دیکھی ہیں اور صرف اسے چھوڑ کر کسی بھی طالبہ نے حجاب نہیں پہنا ہے۔ یہاں تک کہ جس مذہبی برادری سے وہ تعلق رکھتی ہے، اس برادری کی طالبات نے بھی حجاب نہیں پہنا ہے۔‘‘
عدالت نے کہا کہ ’’جب کبھی بھی یہ مسئلہ اٹھا ہے، ہائی کورٹس کی متفقہ رائے رہی ہے کہ حجاب پہننا اسلامی عقیدے کا لازمی حصہ نہیں ہے اور کسی خاتون کے حجاب نہ پہننے سے عقیدہ خطرے میں نہیں پڑ جائے گا۔‘‘ عدالت نے 21 اگست کو دیے گئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عرضی میں یہ دعویٰ کہ حجاب پہننا ایک ضروری مذہبی عمل ہے، محض ایک دعویٰ ہی ہے۔‘‘
آپ کا تبصرہ