اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی جریدے آتلانٹک کونسل سے وابستہ ایک تجزیہ کار کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے باوجود واشنگٹن ابھی تک یہ واضح نہیں کر سکا کہ وہ ان پابندیوں کے ذریعے آخر کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی نئی معاشی پابندیاں ایران پر دباؤ تو بڑھا سکتی ہیں، لیکن انہیں مکمل طور پر نافذ کرنا واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ خاص طور پر چین کا ممکنہ ردعمل، خلیجی ممالک کی حساس صورتحال اور ایران کے خلاف طویل عرصے سے جاری زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی محدود کامیابی اہم رکاوٹیں ہیں۔
تجزیہ کار نِٹ سوانسن کے مطابق چین ایران کا اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے۔ ایران اور چین کے اقتصادی تعلقات کو محدود کرنے کے لیے امریکہ کو چینی بینکوں، ریفائنریوں اور بندرگاہوں پر بھی دباؤ ڈالنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے چین کے ساتھ ایک نئی اقتصادی جنگ کا خطرہ مول لینے کو تیار ہیں؟ ایسی صورتحال میں بیجنگ کی جانب سے جوابی اقدامات امریکی معیشت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
تجزیے میں متحدہ عرب امارات کو اس پالیسی کی پیچیدگی کی ایک مثال قرار دیا گیا ہے۔ اگر ابوظہبی امریکی پابندیوں پر مکمل عمل درآمد کرتا ہے تو اسے ایران کے ممکنہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ واشنگٹن کے مطالبات سے اختلاف کی صورت میں خود امریکی پابندیوں کی زد میں آنے کا خطرہ موجود ہے۔
سوانسن کے مطابق امریکہ گزشتہ تقریباً 47 برس سے ایران پر مختلف نوعیت کا دباؤ ڈالتا آیا ہے، لیکن یہ پالیسی نہ تو ایرانی نظام کو ختم کر سکی اور نہ ہی تہران کے اہم تزویراتی فیصلوں میں بنیادی تبدیلی لا سکی۔
تجزیے کا اہم نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی ایران کے بارے میں مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حکام حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں جبکہ بعض مذاکرات کی جانب واپسی کو ترجیح دیتے ہیں۔
سوانسن کے مطابق جنگ شروع ہونے کے کئی ماہ بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ واضح نہیں کہ ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی کا حتمی سیاسی ہدف کیا ہے۔
تجزیے میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ نئی پابندیاں ایران پر اقتصادی دباؤ ضرور بڑھا سکتی ہیں، لیکن اس دباؤ کو مطلوبہ سیاسی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے امریکہ کو چین، ایران اور خلیجی ممالک کے ممکنہ ردعمل سمیت ایسے اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں جن سے واشنگٹن خود بھی گریز کرنا چاہتا ہے۔
آپ کا تبصرہ