25 اگست 2026 - 16:20
صہیونی سیاستدان کا سارہ نیتن یاہو پر سنگین الزام؛ شراب نوشی اور نسل پرستی کا دعویٰ

نیتن یاہو مخالف تحریک کے ایک معروف صہیونی سیاستدان نے اسرائیلی حکام کی سکیورٹی پر مبینہ امتیازی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ اور بیٹے پر سرکاری خزانے کے ناجائز استعمال اور غیر اخلاقی رویے کے الزامات عائد کیے اور موجودہ دور کو ’’نیتن یاہو کے عہد کا اختتام‘‘ قرار دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عدالتی اصلاحات اور بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ کے خلاف احتجاجی تحریک کے رہنماؤں میں شامل موشے ریڈمان، جو حال ہی میں کنیسٹ کے انتخابات کے لیے ’’ڈیموکریٹک پارٹی‘‘ کی فہرست میں نویں نمبر پر شامل ہوئے ہیں، نے وزیراعظم کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو اور ان کے بیٹے یائیر نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ریڈمان نے سارہ نیتن یاہو کو ’’ایک متشدد اور شرابی نسل پرست‘‘ اور ’’سزا یافتہ مجرم‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا: ’’وہ ایسی شخصیت ہیں جن کی تاحیات سکیورٹی کے لیے ہماری سرکاری رقم سے ہر سال لاکھوں شیکل عوامی سلامتی کی سروس (شاباک) کو ادا کیے جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس حوالے سے 2019 میں سارہ نیتن یاہو کی سزا کا ذکر کیا، جب انہوں نے ایک عدالتی معاہدے کے تحت دوسرے شخص کی غلطی سے جان بوجھ کر فائدہ اٹھانے کے الزام کو تسلیم کیا تھا۔

انہوں نے یائیر نیتن یاہو کو ’’ایک بیکار غنڈہ‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ’’نقصان دہ مواد پھیلانے، زہر اگلنے اور عوام کی جیب سے مفت فائدہ اٹھانے‘‘ میں مصروف ہیں۔

یہ شدید تنقید اسرائیل میں سکیورٹی انتظامات کی صورتحال پر ریڈمان کی تنقید کے دوران سامنے آئی۔ انہوں نے مزید لکھا: ’’اسرائیل 2026 میں، نیتن یاہو کے عہد کے اختتام پر، محض ظاہری شکل برقرار رکھنے کی کوشش میں اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha