اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لیتھوانیا کے قومی نشریاتی ادارے ایل آر ٹی نے رپورٹ کیا ہے کہ دارالحکومت ولنیئس میں قرآن کی ایک کاپی نذرِ آتش کیے جانے اور ملک کے شہر کاؤنَس میں تاتار برادری کی ایک تاریخی مسجد کے باہر پیش آنے والے واقعے نے لیتھوانیا میں تارکین وطن اور مذہبی کشیدگی سے متعلق بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہفتے کے آخر میں ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ولنیئس کے مرکزی علاقے میں قرآن کی ایک کاپی کو نذرِ آتش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تاہم لیتھوانیا کی پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ 13 ستمبر کو پیش آیا تھا۔
کاؤنَس شہر میں بھی موٹر سائیکل سواروں کے ایک گروہ نے مسجد کے سامنے سور کا سر لا کر رکھا، نماز کے دوران چیخ و پکار اور نعرے لگائے اور اطلاعات کے مطابق مسلم برادری کے افراد کو دھمکیاں دیں۔
لیتھوانیا کے مفتی الیگزاندرس بگانسکاس نے بتایا کہ انہیں مسجد کو آگ لگانے اور انہیں اور ان کے خاندان کو نقصان پہنچانے کی دھمکیوں کے بارے میں اطلاع ملی ہے۔
ان واقعات کے بعد مختلف سیاسی ردعمل سامنے آئے ہیں۔
لیتھوانیا کی پارلیمنٹ کے رکن توماس تومیلاس نے بعض نامعلوم افراد پر اختلافات کو ہوا دینے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔
دوسری جانب لیتھوانیا کی اپوزیشن جماعت اتحادِ وطن کے سربراہ لوریناس کاسیوناس نے ملک میں ہر سال آنے والے غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں نمایاں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
کاسیوناس نے تجویز دی ہے کہ رواں سال غیر ملکی کارکنوں کی تعداد کا کوٹہ تقریباً 25 ہزار سے کم کرکے تقریباً 10 ہزار کر دیا جائے، تاہم اعلیٰ مہارت رکھنے والے کارکنوں کے لیے استثنیٰ رکھا جائے۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ مزید افرادی قوت کے حصول کے لیے ان ممالک پر توجہ مرکوز کی جائے جو ثقافتی اعتبار سے لیتھوانیا کے زیادہ قریب ہیں۔
لیتھوانیا کے وزیر داخلہ مارتیناس کاتلیناس نے کہا کہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے موجودہ کوٹہ سسٹم مؤثر نہیں ہے اور لیتھوانیا اپنی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک نیا طریقہ کار تیار کر رہا ہے۔
تاہم، لیتھوانیا کی وزیر برائے سماجی تحفظ اینگا روگینینے کی رائے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام سخت ہے اور مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔
لیتھوانیا میں رواں سال غیر ملکی کارکنوں کے داخلے کا کوٹہ ستمبر کے آغاز میں ہی مکمل ہوگیا تھا۔
لیتھوانیا کے اقتصادی اور تجارتی شعبے کے نمائندوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ملک کو تارکین وطن سے متعلق ایک واضح اور طویل مدتی پالیسی کی ضرورت ہے۔
لیتھوانیا میں مسلمانوں کی کئی سو سال پرانی تاریخ
لیتھوانیا کے تاتار، جنہیں لیپکا تاتار بھی کہا جاتا ہے، 14ویں صدی عیسوی کے اواخر سے اس خطے میں آباد ہیں۔
لیتھوانیا کے شہر کاؤنَس کی مسجد، جسے تاتار برادری نے دو عالمی جنگوں کے درمیان کے عرصے میں تعمیر کیا تھا، اس خطے میں مسلمانوں کی کئی سو سال پرانی موجودگی کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ تاریخی پس منظر ظاہر کرتا ہے کہ لیتھوانیا میں مسلمانوں کی موجودگی کوئی نیا معاملہ نہیں بلکہ اس ملک کی تاتار برادری صدیوں سے لیتھوانیا کے سماجی اور تاریخی ڈھانچے کا حصہ رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ