24 اگست 2026 - 15:20
لبنان کے سابق وزیر غازی العریضی: اسرائیل معاہدے مسترد کرکے لبنان کے علاقوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے

لبنان کے سابق وزیر غازی العریضی نے ملک کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی اقدامات کو معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اسرائیل معاہدوں کو مسترد کرکے مختلف علاقوں پر حملے کر رہا ہے اور بعض حلقے ان کارروائیوں کو ’’حقِ دفاع‘‘ کا نام دے کر جائز قرار دیتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، غازی العریضی نے لبنان کے علاقے اقلیم الخروب کے قصبے داریا میں سابق رہنما ولید جنبلاط کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور ملک کو درپیش خطرات سنگین ہیں۔ جنوبی لبنان کی صورتحال کو سیاسی اختلافات سے قطع نظر معمول کا معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

العریضی نے کہا کہ اسرائیل روزانہ یہ اعلان کر رہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان، شام اور غزہ سے انخلا کا ارادہ نہیں رکھتا اور مختلف معاہدوں کو بھی مسترد کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل مختلف علاقوں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ بعض حلقے ان کارروائیوں کو ’’حقِ دفاع‘‘ کے عنوان سے جواز فراہم کر رہے ہیں۔

لبنان کے سابق وزیر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے ادا کرے اور متاثرہ افراد کے لیے رہائش اور پناہ گاہوں کا فوری انتظام کرے۔

انہوں نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے لیے بھی پیشگی انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا اور اسے قومی ذمہ داری قرار دیا۔

العریضی نے لبنان کے ایک مذہبی فرقے کے خلاف توہین آمیز زبان، الزام تراشی اور نامناسب الفاظ کے استعمال پر بھی خبردار کیا اور کہا کہ اس طرح کا رویہ قومی اتحاد کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ لبنان کو اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ قومی اتحاد کی ضرورت ہے اور یہی اتحاد ملک کے استحکام اور بقا کی سب سے اہم ضمانت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha