18 اکتوبر 2026 - 16:24
مفتی جعفری لبنان: حکومتی اقدامات سے ایک فرقے کے خلاف جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے

لبنان کے مفتی جعفری شیخ احمد قبلان نے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے اقدامات ایک پورے فرقے کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکانے کے مترادف ہیں، جس میں اس فرقے کے افراد کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ لبنان کی خودمختاری، حکومتی امور میں قومی مفادات کو مقدم رکھنے، منصفانہ شراکت داری اور قومی میثاق کی پابندی چاہتے ہیں اور اس سے کم کچھ قبول نہیں کریں گے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے مفتی جعفری شیخ احمد قبلان نے ملک کی انتظامیہ کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حکومت کے اقدامات خطرناک ہیں اور ایک پورے فرقے کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکانے کے مترادف ہیں، جس میں اس فرقے کے تمام افراد کو بلاامتیاز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شیخ قبلان نے ایک بیان میں زور دیا کہ حکومت کی مؤثر موجودگی ناگزیر ہے، لیکن اس کا عملی مظاہرہ ملکی سرحدوں، جنگی محاذوں اور قومی، سماجی و اقتصادی امدادی سرگرمیوں میں ہونا چاہیے۔

ان کے بقول، جو حکومت اپنی پالیسیوں کے ذریعے لوگوں کو بھوک، غربت اور تنگ دستی کی طرف دھکیلتی ہے اور پھر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتی ہے، وہ قومی انصاف کے تحفظ اور امن قائم کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔

لبنان کے جنوبی محاذ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ حکومت، خودمختاری اور مزاحمت کی بات کرتے ہیں، انہیں جنوبی سرحدوں کی صورت حال پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ لبنان کے مفادات کا دفاع کرنے کے بجائے ایک امریکی منصوبے کی خدمت کر رہی ہے اور اپنے طرزِ عمل سے ملک کے اندرونی اتحاد کو کمزور کر رہی ہے۔

مفتی جعفری لبنان نے مزید کہا کہ ملک کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو قومی خودمختاری، شہریوں کی حقیقی شراکت داری، روزگار کے مواقع، تعلیم، سماجی انصاف اور امدادی خدمات کی ضمانت دے۔ ایسی حکومت نہیں جو جیل کے داروغے اور سکیورٹی نگران کا کردار ادا کرے اور بیرونی مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔

شیخ قبلان نے کہا کہ انتظامیہ کی کارکردگی کے نتیجے میں شیعہ برادری کو سیاسی، سکیورٹی، ذرائع ابلاغ، مالی اور معاشی محاصرے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ فریم ورک مفاہمت کا حوالہ دیتے ہوئے ان اقدامات کو شیعہ فرقے کو محدود کرنے اور اس کے خلاف سکیورٹی و سیاسی کارروائیوں کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرزِ عمل سے لبنان میں سلامتی، سیاست اور قومی خودمختاری کے شعبوں میں خطرناک دراڑ پیدا ہو سکتی ہے۔

شیخ قبلان نے یہ بھی یاد دلایا کہ لبنان کے سیاسی ڈھانچے اور قومی بحالی کا عمل شیعہ اور دیگر فرقوں کی شراکت داری پر قائم رہا ہے۔

ان کے مطابق، شیعوں نے بالخصوص تحریک امل، حزب اللہ اور مزاحمتی تحریک کے حامیوں کے ذریعے تقریباً نصف صدی سے لبنان کی آزادی اور دفاع میں کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کردار نے لبنان کی خودمختاری اور بقا کے تحفظ میں اہم حصہ ڈالا ہے۔

مفتی جعفری لبنان نے ایک بار پھر زور دیا کہ شیعہ لبنان کی خودمختاری، حکومتی امور میں قومی مفادات کو مقدم رکھنے، منصفانہ شراکت داری اور قومی میثاق کی پابندی چاہتے ہیں اور اس سے کم کچھ قبول نہیں کریں گے۔

شیخ قبلان نے خبردار کیا کہ شیعہ برادری اپنے وجود، حقوق اور قومی شراکت داری کے دفاع کے لیے ڈٹ کر کھڑی رہے گی اور کوئی طاقت اسے لبنان سے الگ نہیں کر سکتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha