جماران کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے معروف مذہبی و سیاسی رہنما سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ جو ماہرین اور سیاستدان حق بات جانتے ہوئے بھی خوف یا مفاد کی خاطر خاموش رہتے ہیں، وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔ ان کے بقول، کبھی کبھی خاموش رہنا بھی جھوٹ بولنے کے مترادف ہوتا ہے۔
صدرِ ایران اور حکومتی ارکان کی امام خمینی کے نظریات سے تجدیدِ عہد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید حسن خمینی نے کہا کہ جو لوگ حق کو جانتے ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں، وہ دراصل اپنی مہارت اور علم کو معاشرے کے فائدے کے لیے استعمال نہیں کرتے۔
انہوں نے اسپین کے معروف فلسفی میگوئل دے اونامونو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فاشزم کے دور میں انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ "کبھی خاموش رہنا، جھوٹ بولنا ہے۔" سید حسن خمینی نے اس جملے کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین کو جہاں بولنا چاہیے وہاں خوف یا لالچ کی وجہ سے خاموش رہنا خیانت ہے۔
سید حسن خمینی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسے سیاستدان جو صرف اس خوف سے اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے کہ انہیں گالیاں دی جائیں گی یا تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ماہرین کی بنیاد پر اپنا مؤقف پیش نہیں کرتے، وہ درحقیقت جھوٹ بول رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کو ماہرین سے توقع ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں اور اپنے علمی و کارشناسانہ مؤقف کو کھل کر بیان کریں۔
سید حسن خمینی نے حالیہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایک باوقار جنگ کا سامنا کیا اور مسلح افواج کا کردار اس دوران بے مثال رہا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں لوگ فوج، سپاہ، بسیج اور سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کا ذکر کریں گے، جبکہ حکومت کے ارکان نے بھی اہم کردار ادا کیا جس پر نسبتاً کم بات ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر جنگ ایک دن ختم ہوجاتی ہے۔ دشمن ایران کو توڑنا چاہتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا، ملک کو تقسیم کرنا چاہتا تھا لیکن ناکام رہا اور اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے بقول نظام مزید مضبوط ہوا۔
سید حسن خمینی نے مزید کہا کہ دشمن کا مقصد ایرانی معاشرے کے ایک حصے کو اندرونی جنگ کی طرف دھکیلنا تھا، لیکن عوام نے دشمن کے منصوبے میں کردار ادا کرنے کے بجائے بڑی تعداد میں انقلاب کی قوتوں کے ساتھ اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ اور امن دونوں میں کامیابی کی بنیادی شرط اتحاد اور یکجہتی ہے۔ ان کے مطابق فیصلے سے پہلے مختلف آراء اور نقطۂ نظر سامنے آنا فطری بات ہے، لیکن جب ملکی سطح پر فیصلہ ہوجائے تو تمام حلقوں کو اس فیصلے کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔
سید حسن خمینی نے کہا:"میں یہ نہیں کہتا کہ اگر ہم سب متحد ہوں تو لازماً کامیاب ہوں گے، لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ آپس کی لڑائی کے ساتھ ہم ضرور شکست کھا چکے ہوں گے۔"
انہوں نے زور دیا کہ بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی اور سماجی قوتوں کو اختلافات کے باوجود حتمی فیصلوں کے بعد متحد ہوکر آگے بڑھنا ہوگا۔
سید حسن خمینی نے کہا کہ جنگ کے دوران حکومت کی ذمہ داریاں مختلف تھیں، لیکن اب حکومت کی بنیادی توجہ عوام کی زندگی، معیشت اور مشکلات کے حل پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی دشمن چاہتے ہیں کہ ایران اندرونی طور پر معاشی انتشار کا شکار ہو، اس لیے حکومت کو اقتصادی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام مشکلات کی وجوہات کو سمجھتے ہیں، لیکن انہیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ حکام سے مسائل کے علاج اور عملی حل کی توقع رکھیں۔
سید حسن خمینی نے آخر میں کہا کہ معاشرے کو حکام سے توقع ہے کہ وہ ماہرین کی آراء پر قائم رہیں، جبکہ ماہرین سے بھی توقع ہے کہ وہ خاموش نہ رہیں، کیونکہ بعض اوقات خاموشی بھی جھوٹ کے مترادف ہوتی ہے۔
آپ کا تبصرہ