22 اگست 2026 - 16:29
اسرائیلی تجزیہ کار: فوج نیتن یاہو کو انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دے گی

اسرائیلی اخبار معاریو کے عسکری امور کے تجزیہ کار آلون بن داوید نے کہا ہے کہ تقریباً تین سالہ جنگ کے باعث اسرائیلی فوج شدید افرادی اور فوجی وسائل کے دباؤ کا شکار ہے اور فوجی قیادت نہیں چاہتی کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کے لیے کسی بھی محاذ کو دوبارہ جنگ کی آگ میں جھونکے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آلون بن داوید نے کہا کہ تقریباً تین سال کی جنگ کے بعد اسرائیلی فوج میں انسانی وسائل اور فوجی سازوسامان شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق فوجی یونیفارم کے پرانے ضابطوں کی بحالی بھی فوج کی جانب سے جنگ سے پہلے کے نظم و ضبط اور معیار کی طرف واپسی کی کوشش کی علامت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران اسرائیلی فضائیہ، ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور گولہ بارود کے ذخائر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق اب تک 1138 اسرائیلی فوجی مارے گئے جبکہ 11 ہزار 730 فوجی جسمانی یا ذہنی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے باعث ہزاروں مزید فوجی ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔

بن داوید کے مطابق جنگ کے اثرات صرف زخمی فوجیوں تک محدود نہیں بلکہ فوجیوں کی خاندانی اور پیشہ ورانہ زندگی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج اب بھی روزانہ اوسطاً 53 ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کر رہی ہے، جبکہ اس وقت غزہ، لبنان اور شام کے علاوہ مغربی کنارے میں بھی فوجی دباؤ کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایک ماہ تک ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کی لاگت تقریباً 2.1 ارب شیکل رہی، اس لیے موجودہ صورتحال انسانی اور معاشی اعتبار سے زیادہ دیر تک برقرار رکھنا ممکن نہیں۔

نیتن یاہو کی پالیسی پر فوج کو تحفظات

اسرائیلی تجزیہ کار نے شام اور ترکی کے حوالے سے نیتن یاہو کی پالیسی پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج نے تقریباً ایک سال قبل شام کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم نیتن یاہو نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔

بن داوید نے دعویٰ کیا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں شام کے صدر احمد الشرع ترکیہ کے مزید قریب ہوگئے اور اب انقرہ شام کی فوج کی تعمیر نو اور اس کی فوجی صلاحیت بڑھانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے شام کے ابو الظهور ہوائی اڈے پر حالیہ اسرائیلی حملے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائی اسرائیل کو ترکیہ کے ساتھ ایک غیر مطلوبہ محاذ آرائی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کا راستہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بن داوید نے مزید کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیلی حکومت کی سیاسی بے عملی کے باعث اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو مستقل سیاسی نتائج میں تبدیل نہیں کر سکا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج میں یہ تاثر موجود ہے کہ نیتن یاہو کسی بھی جنگی محاذ کو ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور ممکن ہے انتخابات کو ملتوی کرنے یا ان کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کسی ایک محاذ، بالخصوص غزہ، میں دوبارہ جنگ بھڑکا دیں۔

بن داوید نے اعلیٰ فوجی حکام کے حوالے سے کہا کہ فوج نیتن یاہو کو کسی نئی اور غیر ضروری جنگ میں داخل ہونے میں مدد دینے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر کے لیے آئندہ سب سے اہم اور مشکل آزمائشوں میں سے ایک ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha