17 اگست 2026 - 14:22
اسرائیلی رکاوٹوں کے خلاف 8 اسلامی ممالک کے مشترکہ بیان کا حماس کی جانب سے خیرمقدم

حماس نے غزہ میں امن کے روڈ میپ پر عمل درآمد میں اسرائیلی رکاوٹوں کی مذمت کرنے والے 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،حماس نے غزہ میں امن کے روڈ میپ پر عمل درآمد میں اسرائیلی رکاوٹوں کی مذمت کرنے والے 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

 اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امن کے روڈ میپ پر عمل درآمد میں اسرائیلی رکاوٹوں کی واضح مذمت کو سراہا۔

حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ ان ممالک کا مشترکہ مؤقف تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ تحریک نے امن کے روڈ میپ پر مکمل اور فوری عمل درآمد کی ضرورت پر وزرائے خارجہ کے زور دینے اور اس منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے امریکا، ’’امن کونسل‘‘ اور دیگر ثالثوں کے فعال کردار کو جاری رکھنے کی حمایت بھی کی۔

حماس نے کہا کہ عالمی کوششیں اس انداز میں جاری رہنی چاہئیں کہ قابض حکومت کو رکاوٹیں ڈالنے یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کا موقع نہ ملے، جبکہ متفقہ انتظامات اور مقررہ ٹائم لائن کے مطابق منصوبے کے دوسرے مرحلے کی شرائط پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو۔

حماس نے ان آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور مکمل خودمختاری کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کی مخالفت کرنے والی اسرائیلی کوششوں کو مسترد کرنے کو بھی اہم قرار دیا۔

حماس کے مطابق ان ممالک کا یہ مؤقف بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسرائیلی قبضے کا تسلسل، الحاق کی پالیسیاں، غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

تحریک نے زور دیا کہ اس اہم مشترکہ مؤقف کو مؤثر سیاسی اور سفارتی اقدامات کی بنیاد بنانا چاہیے اور اسرائیلی حکومت کو طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرنے کی خاطر عالمی دباؤ جاری رہنا چاہیے۔

حماس نے فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کا عمل جلد از جلد شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

حماس کے مطابق اس کے ساتھ ایسے راستے پر بھی پیش رفت ضروری ہے جو بالآخر فلسطینی عوام کو ان کے تمام قانونی اور قومی حقوق مکمل طور پر استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ روز جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں غزہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں سلامتی و استحکام کے قیام کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی براہِ راست ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد کی تھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha