16 اگست 2026 - 17:07
سینٹ کام کے متنازع نقشے میں غزہ اور مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ دکھا دیا گیا

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری کی گئی ایک تصویر میں فلسطین اور مقبوضہ علاقوں کا ایسا نقشہ دکھایا گیا ہے جس میں غزہ اور مغربی کنارے کو اسرائیل سے الگ نہیں دکھایا گیا، جبکہ بحیرۂ روم سے دریائے اردن تک کا پورا علاقہ اسرائیل کے زیرِ قبضہ خطے کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے کمانڈر کے خطے کے 10 روزہ دورے کی تصاویر جاری کی ہیں، جن میں ایک نقشہ بھی شامل ہے۔ اس نقشے میں غزہ اور مغربی کنارے کو اسرائیل سے الگ نہیں دکھایا گیا بلکہ بحیرۂ روم اور دریائے اردن کے درمیان پورے علاقے کو اسرائیل کے جغرافیائی خطے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

سینٹ کام کی جانب سے نقشے کی یہ عکاسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی علاقوں کی آئینی و قانونی حیثیت اور غزہ و مغربی کنارے کے مستقبل کا معاملہ بدستور عالمی سطح پر متنازع ہے۔

نقشے میں فلسطینی علاقوں کو الگ شناخت نہ دینا معمول کی بین الاقوامی نقشہ بندی سے مختلف ہے اور اس پر سیاسی و سفارتی سطح پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اسرائیل 2021 سے سینٹ کام کے عملی دائرۂ کار میں شامل ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha