16 اگست 2026 - 16:17
واشنگٹن پوسٹ: ایران کے خلاف ٹرمپ کی پالیسی سے خلیجی ممالک کی ناراضی بڑھ گئی

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک ایران کے خلاف جنگ سے نمٹنے اور سفارتی حل تلاش کرنے میں ٹرمپ انتظامیہ کی ناکامی سے ناخوش ہیں۔ بعض ممالک میں یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ آیا اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں اور دستوں کی موجودگی برقرار رکھنا اب بھی ان کے مفاد میں ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی سے مایوس ہو رہے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے ایران کو بار بار دھمکیاں دینے اور پھر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے عمل نے بعض خلیجی ممالک میں یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ واشنگٹن کی تہران سے متعلق پالیسی غیر مستحکم اور ناقابلِ پیش گوئی ہے۔

تاہم خلیجی ممالک اب بھی امریکا کو اپنا اہم ترین سکیورٹی شراکت دار اور اسلحے کا بنیادی فراہم کنندہ سمجھتے ہیں۔

اخبار نے خطے کے بعض ممالک کی جانب سے اپنے سکیورٹی تعلقات کو متنوع بنانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کو اسی تناظر میں قرار دیا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، بعض حکام اس معاہدے کو واشنگٹن کے لیے ایک پیغام سمجھتے ہیں کہ خطے کے ممالک اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ صرف امریکا پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کمزور ہونے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے خطے میں امریکی شراکت داروں کے ساتھ غیر معمولی تعلقات ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا سے بڑھتی ہوئی ناراضی کے باوجود خلیجی ممالک کے پاس مستقبل قریب میں واشنگٹن کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط سکیورٹی شراکت داری کا کوئی فوری اور مؤثر متبادل موجود نہیں۔

ماہرین نے موجودہ صورتِ حال کو ایک تضاد قرار دیا ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک جنگ شروع کرنے پر امریکا سے ناراض ہیں، جبکہ دوسری جانب فوجی سازوسامان، گولہ بارود اور سکیورٹی معلومات کے لیے اب بھی امریکا پر انحصار کرتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، جنگ کا طول پکڑنے سے خلیجی ممالک پر معاشی اور سکیورٹی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور خطے میں ہونے والی متعدد اقتصادی و بین الاقوامی سرگرمیوں کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha