اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آکسیوس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ نیتن یاہو کی حالیہ وائٹ ہاؤس ملاقات کے دوران ٹرمپ نے ان سے انتخابی سروے میں ان کی پوزیشن کے بارے میں سوال کیا۔ نیتن یاہو کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا کہ وہ انتخابات میں کامیاب ہوں گے، تاہم مختلف جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کے موجودہ اتحاد کو صرف 49 سے 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حزبِ اختلاف کی جماعتیں تقریباً 67 سے 70 نشستوں پر برتری رکھتی ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ اور نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ بھی بیشتر انتخابی جائزوں میں بہتر پوزیشن میں ہیں۔
آکسیوس کے مطابق نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے لازماً انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ضروری نہیں، کیونکہ سیاسی تعطل کی صورت میں وہ حزبِ اختلاف کو حکومت بنانے سے روک کر عبوری حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے اقتدار برقرار رکھ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فاصلے میں اضافہ ہوا ہے اور ایران کے خلاف جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ دونوں رہنماؤں کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے مزید دور ہوگئے ہیں۔ اختلافات کا دائرہ ایران کے علاوہ غزہ اور لبنان تک بھی پھیل چکا ہے۔
آکسیوس کے مطابق ٹرمپ نیتن یاہو کے بعض فیصلوں سے مایوس ہیں اور انہوں نے اپنے قریبی حلقوں میں نیتن یاہو کو ’’اپنا سب سے بڑا دشمن‘‘ قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے حماس کو غیر مسلح کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے کی کھلی مخالفت نے دونوں کے درمیان تناؤ بڑھا دیا تھا۔ تاہم نیتن یاہو نے بعد میں ٹرمپ کے نمائندے جیرڈ کشنر سے بات چیت میں اس منصوبے کو موقع دینے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کے آغاز کے لیے غزہ میں حملے کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
آکسیوس کے مطابق اسرائیل کے انتخابات ٹرمپ کی آئندہ دو برس کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے لیے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ واشنگٹن غزہ سے متعلق منصوبے، اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات، اسرائیل اور شام کے درمیان سکیورٹی معاہدے اور بالخصوص اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی امن معاہدے کے لیے کوششیں آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس اسرائیل میں 2019 کے سیاسی بحران اور مسلسل تین انتخابات سے سبق حاصل کرچکا ہے، جن کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکی سفارتی سرگرمیاں تقریباً ایک سال تک متاثر ہوئی تھیں۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ دوبارہ ایسا نہیں ہونے دینا چاہتی کہ اسرائیل کی داخلی سیاست واشنگٹن کے علاقائی ایجنڈے کو متاثر کرے۔
آپ کا تبصرہ