اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر حالیہ صہیونی حملوں اور خواتین و بچوں سمیت متعدد شہریوں کی شہادت کے بعد لبنان کی مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات و تنظیموں نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
لبنان کے ممتاز جعفری مفتی شیخ احمد قبلان نے حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انصار اور دیر الزہرانی کے علاقوں میں خواتین اور بچوں کا قتل، لبنانی حکومت کی امریکہ اور صہیونی حکومت پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنانی فوج، مزاحمت اور قومی اتحاد، ملک کی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں اور حکومت کو فوج کو اپنے دفاعی فرائض انجام دینے سے نہیں روکنا چاہیے۔
’’قولنا والعمل‘‘ نامی انجمن نے بھی لبنان کی خودمختاری کی بار بار خلاف ورزی کرنے پر صہیونی حکومت کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’فریم ورک معاہدے‘‘ سے فوری طور پر دستبردار ہو۔
انجمن نے کہا کہ تجربے سے ثابت ہوچکا ہے کہ صہیونی حکومت معاہدوں اور سمجھوتوں کی پابندی نہیں کرتی، اس لیے لبنانی عوام کو ملک کی سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ’’فوج، عوام اور مزاحمت‘‘ کے اصول پر قائم رہنا چاہیے۔
’’مسلم علماء کی مجلس‘‘ نے شہریوں کے گھروں پر حملوں اور خواتین و بچوں کی شہادت کو جنگی جرم اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت لبنان سے فریم ورک معاہدے اور مزاحمت سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
’’ہیئت ابناء عرقوب‘‘ نے بھی حالیہ صہیونی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ فریم ورک معاہدے اور براہِ راست مذاکرات کے نتیجے میں صہیونی جارحیت روکنے کے لیے اب تک کیا حاصل ہوا ہے۔
اس تنظیم نے لبنانی وزارت خارجہ کی خاموشی اور کارکردگی پر بھی تنقید کی اور صہیونی حکومت کے جرائم کو دستاویزی شکل دے کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں میں فوری شکایت درج کرانے کا مطالبہ کیا۔
لبنانی حلقوں نے مجموعی طور پر صہیونی جارحیت کا مقابلہ کرنے، لبنان کی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے قومی اتحاد اور سیاسی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
آپ کا تبصرہ