اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایک عبرانی زبان کے میڈیا ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی میڈیا نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے برطانیہ سے متعلق متنازع بیان پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی ٹی وی چینل 14، جسے نیتن یاہو کا حامی پلیٹ فارم بھی سمجھا جاتا ہے، نے بتایا کہ برطانوی میڈیا نے نیتن یاہو کی جانب سے برطانیہ کو ’’برطانیہ کی اسلامی جمہوریہ‘‘ قرار دینے پر شدید تنقید کی اور انہیں احمق تک قرار دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے جمعرات کو ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران برطانیہ کی سیاسی اور آبادیاتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اس ملک پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید برطانیہ کو ’’برطانیہ کی اسلامی جمہوریہ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے مزید دعویٰ کیا کہ کسی شخص نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والی پہلی اسلامی جمہوریہ برطانیہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل تہران میں ایک اور جوہری اسلامی جمہوریہ کے وجود میں آنے کو روکنے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔
ان بیانات پر معروف برطانوی تجزیہ کار اور ٹی وی میزبان پیرس مورگن نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔مورگن، جن کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تقریباً 9 ملین فالوورز ہیں، نے نیتن یاہو کے بیان کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے ان پر ذاتی تنقید کی اور انہیں احمق قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ