اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے سعودی عرب کی جانب سے ممکنہ بڑے فوجی حملے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں یمنی فورسز سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائیں گی۔
البخیتی نے المیادین ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انصار اللہ نے گزشتہ 12 برس کے دوران اسرائیل، سعودی عرب، امریکا اور برطانیہ کے خلاف مزاحمت کا وسیع تجربہ حاصل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمنی مسلح افواج اپنے اہداف کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کرتی ہیں اور اس وقت صرف اسلحہ ڈپوؤں، سعودی فوجیوں کے اجتماعات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
انصار اللہ کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب اپنے نقصانات، بالخصوص ہلاکتوں کی تعداد چھپا رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے کیمپوں میں موجود یمنی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے ان کیمپوں سے نکل جائیں اور کہا کہ ایسا کرنے والوں کے لیے انعام بھی مقرر کیا جائے گا۔
محمد البخیتی نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن کے خلاف بڑے پیمانے پر حملہ شروع کیا تو یمنی مسلح افواج سعودی عرب کے تیل کے ذخائر، بجلی کے بنیادی ڈھانچے، پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنائیں گی۔
انہوں نے تین محاذوں پر جنگ کے لیے تیاری کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق پہلا محاذ اسرائیل، امریکا اور برطانیہ کے خلاف، دوسرا سعودی عرب کے خلاف اور تیسرا یمن کے اندر ہوگا۔
البخیتی نے کہا کہ انصار اللہ اس بات کو ترجیح دے گی کہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف ایک ہزار مرتبہ جنگ کرے، بجائے اس کے کہ یمن کے اندر فریقین کے درمیان جنگ چھڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب طارق عفاش سے وابستہ فورسز پر صنعاء کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ سلفی اور اخوانی گروہ سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ مل کر جنگ کررہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ