13 اگست 2026 - 16:14
ایران کا اسرائیلی دعوؤں پر ردعمل؛ جولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے، تہران

ایرانی وزارتِ خارجہ نے صہیونی حکومت کے وزیراعظم کی جانب سے مقبوضہ جولان پر مستقل قبضے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک غاصب اور قابض حکومت کے توسیع پسندانہ عزائم تاریخی اور قانونی حقائق تبدیل نہیں کرسکتے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ نے جمعرات 22 مرداد کو صہیونی حکومت کی مسلسل توسیع پسندانہ کارروائیوں کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطین پر قابض صہیونی حکومت کے سربراہ کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں اظہارِ خیال کا کوئی حق نہیں، کیونکہ فلسطین کی سرزمین فلسطینی عوام کی ملکیت ہے اور صہیونی حکومت کے نسل پرستانہ دعوے اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جولان کی پہاڑیاں شام کی سرزمین کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہیں اور ایک غاصب و قابض حکومت کے استعماری عزائم تاریخی اور قانونی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

جولان پر اسرائیلی حاکمیت تسلیم کرنے کا کولمبیا کا اقدام مسترد

ایرانی وزارتِ خارجہ نے کولمبیا کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جولان پر صہیونی حکومت کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے حالیہ اقدام کو بھی مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ کولمبیا کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام لازم ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے اس مسلمہ اصول سے بھی متصادم ہے جس کے تحت غیر قانونی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو تسلیم کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، لہٰذا اس کے نتیجے میں کولمبیا کی حکومت کی بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

بیان میں تمام ممالک، بالخصوص اسلامی ممالک کی قانونی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری پر زور دیا گیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول اور صہیونی قبضے، نسل پرستانہ نظام اور استعمار سے نجات کے لیے ان کی مدد کریں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری بھی یاد دلائی کہ وہ فلسطین، لبنان، شام اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف صہیونی حکومت کے مسلسل قبضے اور جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے فلسطین کے مسئلے کو عصرِ حاضر کا سب سے اہم انسانی اور اخلاقی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ 1948 میں فلسطین کی تاریخی سرزمین پر ایک جعلی ریاست کے قیام کے ساتھ شروع ہوا اور اس کی مسلسل توسیع نے پورے خطے اور دنیا میں عدم تحفظ کو بڑھا دیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا اور بعض مغربی ممالک، بالخصوص برطانیہ، فرانس، جرمنی اور کینیڈا کی صہیونی حکومت کی بھرپور حمایت اس کے احتساب سے بچنے اور خطے میں اس کی توسیع پسندی و جرائم کے تسلسل کی بنیادی وجوہ میں شامل ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے آخر میں فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین کی آزادی، فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی، حقِ خود ارادیت اور دارالحکومت بیت المقدس کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت کے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا اور فلسطین کے مسئلے کو معمولی یا ثانوی بنا کر پیش کرنے کی ہر کوشش کی شدید مذمت کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha