21 اکتوبر 2026 - 23:38
ایران یورینیم ذخائر پاس رکھنے پر اصرار کیوں کرتا ہے؟ - 2

امریکہ کے ساتھ کشیدگی اور مذاکرات کے مستقبل پر بحث کے ساتھ ساتھ، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اختلاف کا ایک اہم اور مرکزی نقطہ بن گئے ہیں؛ ایسا مسئلہ جسے، ماہرین کے مطابق، تکنیکی اور سفارتی پہلوؤں کے علاوہ سکیورٹی انتظامات اور تسدید (Deterrence = بازداری) کے موضوع سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے دورہ ایران کے ساتھ ہی، افزودہ یورینیم کے ذخائر کے تحفظ اور اس مواد کو ملک سے باہر لے جانے کی بیرونی تجویز کے تئیں تہران کی مخالفت ایک بار پھر مذاکرات کے مستقبل اور ایران کی قومی سلامتی پر بحث کا ایک اہم اور مرکزی نقطہ مرکز بن گئی ہے۔

اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے پاکستانی فوج کے سربراہ سے ملاقات میں زور دیا کہ افزودہ جوہری مواد کا ایک ذرہ بھی ایران سے باہر نہیں جائے گا؛ یہ وہ موقف ہے جس نے سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی وجوہات، تسدید (بازداری) میں یورینیم کے ذخائر کے کردار، اور اس پر اصرار کی ممکنہ لاگت کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری اور آخری قسط:

یورینیم کے ذخائر میں کمی واشنگٹن کے منصوبے بدل سکتی ہے، مگر کیسے؟

امریکی مسائل کے اس ورینیم کے ذخائر میں کمی واشنگٹن کے حسابات کیوں بدل سکتی ہے؟

ڈاکٹر ایزدی نے کہا: امریکیوں کو اس حوالے سے ایک مشکل درپیش ہے، وہ یہ کہ اگر وہ ایران کے خلاف ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار استعمال کرنا چاہیں تو پھر دنیا بھر میں یہ سوال اٹھے گا کہ ایران ایٹمی ہتھیار کیوں نہیں بناتا۔ آج بھی بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں، مگر اس صورت میں ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار بنانا مکمل طور پر جائز قرار پائے گا۔

ایران یورینیم ذخائر پاس رکھنے پر اصرار کیوں کرتا ہے؟ - 1

ایزدی نے مزید کہا: امریکیوں کا اصرار ہے کہ انہیں یقین دلایا جائے کہ یورینیم یا ایران سے باہر لے جایا گیا ہے یا پتلا کیا گیا ہے! بدقسمتی سے اسلام آباد مفاہمت نامے میں درج کیا گیا تھا کہ یورینیم کم از کم پتلا کیا جائے گا۔ حالانکہ پتلا کرنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ اسے دسترس سے باہر کیا جائے۔ چنانچہ، یہ درست ہے کہ یورینیم کی بیرون ملک منتقلی بدتر ہے لیکن اسے پتلا کرنا بھی بالکل اچھا نہیں ہے۔

انھوں نے کہا: امریکیوں کو اس حوالے سے ایک مشکل درپیش ہے، اور وہ یہ کہ اگر وہ ایران کے خلاف ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار استعمال کرنا چاہیں تو پھر دنیا بھر میں یہ سوال اٹھے گا کہ ایران ایٹمی ہتھیار کیوں نہیں بناتا۔ اب بھی کچھ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں، مگر اس صورت میں ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار بنانا مکمل طور پر جائز قرار پائے گا۔

ایزدی نے جاری رکھا: امریکیوں کو یقینی بنانا ہو گا کہ یورینیم یا ایران سے باہر لے جایا گیا ہے یا پتلا کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے اسلام آباد مفاہمت نامے میں آیا تھا کہ یورینیم کم از کم پتلا کیا جائے گا؛ پتلا کرنے کا مطلب بھی اسے دسترس سے باہر کرنا ہے۔ البتہ یورینیم کا باہر لے جانا بدتر ہے اور اسے پتلا کرنا بھی بالکل اچھا نہیں ہے۔

ایران یورینیم ذخائر پاس رکھنے پر اصرار کیوں کرتا ہے؟ - 1

ڈاکٹر فؤاد ایزدی زور دے کر کہا: نتیجہ یہ ہے کہ افزودہ یورینیم ملک سے باہر نہیں جانا چاہئے اور اس کا انتظام اس طرح سے نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اپنی استعمال کی صلاحیت کھو دے؛ کیونکہ اگر ایران کے پاس یہ صلاحیت نہ ہو تو مخالف فریق زیادہ آسانی سے ایٹمی ہتھیار کے استعمال کی دھمکی دے سکتا ہے۔

انھوں نے واضح کیا: اگر ایسا ہو جائے اور مخالف فریق اس حوالے سے مطمئن ہو جائے تو ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار کے استعمال کا امکان بڑھ جائے گا۔ اسی لئے جناب ڈاکٹر رضائی کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ "افزودہ جوہری مواد کا ایک ذرہ بھی ایران سے باہر نہیں جائے گا۔"

امریکہ کی ایران سے ٹکراؤ کی وجہ جوہری پروگرام نہیں

ایزدی نے مزید کہا: یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ ایران سے امریکہ کے ٹکراؤ کی اصل وجہ جوہری پروگرام نہیں بلکہ خود اسلامی جمہوریہ ایران، ہدف ہے۔ جیسا کہ رہبر شہید انقلاب امام خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ) کئی دہائیوں سے واضح کرتے رہے تھے، کہ امریکہ کا ہدف اسلامی جمہوری نظام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور اسے ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: علی شفیعی اقدم

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha