12 اگست 2026 - 17:44
مآخذ: ابنا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی تباہی، 85 ہزار رہائشی یونٹ متاثر یا مکمل طور پر مسمار

جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق خطے میں تقریباً 85 ہزار رہائشی یونٹ یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ تاریخی عمارتیں اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل علاقے بھی اس تباہی سے محفوظ نہیں رہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق خطے میں تقریباً 85 ہزار رہائشی یونٹ یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ تاریخی عمارتیں اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل علاقے بھی اس تباہی سے محفوظ نہیں رہے۔

فائننشل ٹائمز نے غیر منافع بخش صحافتی ادارے لائٹ ہاؤس رپورٹس کے تعاون سے سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر شواہد کی بنیاد پر جنوبی لبنان کے اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقوں میں ہونے والی وسیع تباہی کا جائزہ لیا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیادہ تر تباہی 17 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ بندی کے بعد ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرحدی علاقوں کے درجنوں دیہات اور قصبوں میں اسرائیلی فوج اور اس سے وابستہ غیر فوجی ٹھیکیداروں کی جانب سے عمارتیں منہدم کرنے اور علاقوں کو مسمار کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

تازہ سیٹلائٹ تصاویر سے جنوبی لبنان کے متعدد دیہات میں بڑے پیمانے پر تباہی کی تصدیق ہوتی ہے۔ سینکڑوں عمارتیں، جن میں زیادہ تر رہائشی مکانات شامل ہیں، یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں یا انہیں اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ وہ رہائش کے قابل نہیں رہیں۔ بعض ویڈیوز میں بلڈوزروں اور بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے عمارتیں گرانے اور دیہات کے مختلف حصوں کو ہموار کرنے کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی انہدام اور تباہی کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے اور زمینی فوجی موجودگی بھی برقرار رہی۔ اس صورتحال نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ سرحدی علاقوں کو اس حد تک تباہ کیا جا رہا ہے کہ وہاں کے بے گھر باشندوں کے لیے دوبارہ اپنے گھروں کو لوٹنا انتہائی مشکل ہو جائے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے جنوبی لبنان میں استعمال ہونے والے بعض طریقۂ کار کو غزہ کی جنگ کے دوران اختیار کی گئی اسرائیلی حکمت عملی سے مماثل قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق بنیادی ڈھانچے اور طبی مراکز کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو ہراساں کرنے اور خوف و دباؤ کی فضا پیدا کرنے جیسے اقدامات بھی ان کارروائیوں کا حصہ رہے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل لبنان کے اندر ایک نام نہاد ’’سکیورٹی زون‘‘ یا اگلی دفاعی لائن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان کی حدود میں 10 کلومیٹر تک آگے بڑھ سکتی ہے۔

جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی تباہی نے نہ صرف شہری آبادی کی واپسی بلکہ تاریخی ورثے، بنیادی ڈھانچے اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha