اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی مصنف ایہاب زکی نے اپنے تجزیے میں امریکی ’’روڈ میپ‘‘، واشنگٹن اور اسرائیل کے حالیہ مؤقف اور ثالث ممالک کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے اس منصوبے کے پس پردہ ممکنہ مقاصد پر سوالات اٹھائے ہیں۔
زکی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت نے اس روڈ میپ کا فوری خیرمقدم کیا اور نیکولای ملادینوف کی سربراہی میں ’’امن کونسل‘‘ نے بھی اس پر دستخط کیے، تاہم یہ منصوبہ جنگ کے حوالے سے نیتن یاہو کے پانچ بنیادی اہداف سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ان کے مطابق روڈ میپ میں معاہدے کی تمام ذمہ داریوں پر بیک وقت عمل درآمد اور دوسرے مرحلے میں داخل ہونے سے قبل پہلے مرحلے کے اقدامات مکمل کرنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ نیتن یاہو حماس کو غیر مسلح کرنے اور فوجی دباؤ جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔
فلسطینی مصنف نے ترکی، پاکستان، مصر، سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر اور انڈونیشیا کے اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف مشترکہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا یہ واقعی ان ممالک کی پالیسی میں تبدیلی ہے یا حماس پر دباؤ بڑھانے کی نئی حکمت عملی کا آغاز؟
زکی نے روڈ میپ کی اس شق کی طرف بھی توجہ دلائی جس میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ’’قابلِ اعتبار سیاسی راستہ‘‘ فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ شق نیتن یاہو کے مؤقف سے واضح طور پر متصادم ہے اور اس پر مکمل عمل درآمد اسرائیلی وزیراعظم کے لیے بھاری سیاسی قیمت کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب اسرائیل انتخابات کے قریب ہے اور حکمران اتحاد اور خود نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔
مصنف کے مطابق 14 روزہ مدت کے آغاز میں نسبتاً پرسکون صورتحال بھی ایک سیاسی حکمت عملی ہوسکتی ہے، تاکہ اگر یہ عمل ناکام ہوجائے تو حماس کو منصوبے کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا جاسکے۔
انہوں نے نیکولای ملادینوف کے نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد مؤقف میں آنے والی تبدیلی اور اسرائیلی انخلا کے لیے حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط عائد کیے جانے کو بھی روڈ میپ کی ابتدائی شقوں سے انحراف کی علامت قرار دیا۔
زکی کے مطابق یہ روڈ میپ ممکنہ طور پر خطے میں طاقت کا توازن دوبارہ ترتیب دینے کی وسیع تر امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے بقول العلمین مذاکرات اور اس سے ہونے والا معاہدہ بحران کے حتمی حل سے زیادہ وقت حاصل کرنے اور بیک وقت متعدد محاذوں کو قابو میں رکھنے کا طریقہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اب تک ایران کے ساتھ جنگ کا کوئی واضح نتیجہ حاصل نہیں کرسکا جبکہ اسرائیل بھی غزہ سمیت کسی محاذ پر حتمی فتح حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
فلسطینی مصنف نے خبردار کیا کہ جب تک خطے کی جنگوں اور تنازعات کا کوئی واضح انجام سامنے نہیں آتا، مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ اور کنٹرول کا کوئی نیا نقشہ حتمی شکل اختیار نہیں کرسکتا اور خطہ نئے بحرانوں کی لپیٹ میں آنے کے خطرے سے دوچار رہے گا۔
آپ کا تبصرہ