اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حالیہ اسرائیلی جنگ کے اثرات اب بھی برقرار ہیں اور متعدد متاثرہ خاندان اپنے گھروں سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ خاندان ملبہ ہٹانے، عمارتوں کو محفوظ بنانے، مرمت اور تعمیرِ نو کا عمل مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔
لبنان کی وزیرِ سماجی امور حنین السید نے جنوبی مضافاتی علاقے کی بلدیاتی یونین کا دورہ کرکے متاثرہ علاقوں کی صورتحال، جنگ سے متاثرہ خاندانوں کی عارضی رہائش اور ملبہ ہٹانے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔
جنوبی مضافاتی علاقے کی بلدیاتی یونین کے سربراہ محمد ضرغام نے اس دورے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ سماجی امور نے متعدد بلدیاتی نمائندوں اور سربراہوں سے ملاقات کی اور متاثرہ خاندانوں کی رہائش اور دستاویزات سے متعلق مراکز، تباہ شدہ عمارتوں کے جائزے کے لیے قائم انجینئرنگ دفتر اور ملبہ ہٹانے کے مقامات کا بھی دورہ کیا۔
انہوں نے کرایہ الاؤنس کے منصوبے کے بارے میں کہا کہ یہ معاملہ اب بھی حکومتی سطح پر زیرِ غور ہے اور ادائیگیوں کے آغاز کی حتمی تاریخ بتانا ممکن نہیں، کیونکہ اس کے لیے خطیر مالی وسائل کی فراہمی، حکومتی فیصلے اور واضح انتظامی طریقہ کار طے کرنا ضروری ہے۔
ضرغام نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں قبل از وقت وعدے یا فیصلے کرنے کے بجائے عملی نتائج کا انتظار کیا جانا چاہیے، کیونکہ اصل معیار وہ اقدامات ہیں جو زمینی سطح پر حقیقت میں نظر آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیرِ سماجی امور نے وزیراعظم کے ساتھ اس معاملے کو آگے بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ضرغام نے زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کی ضروریات صرف کرایہ الاؤنس تک محدود نہیں بلکہ ملبہ ہٹانے کے عمل میں تیزی، انجینئرنگ جائزوں کی تکمیل، عمارتوں کو محفوظ بنانے اور گھروں کی تعمیرِ نو بھی ضروری ہے تاکہ متاثرہ خاندان جلد از جلد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔
آپ کا تبصرہ