اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے اربعین کے موقع پر عراقی عوام، موکب منتظمین اور زائرین کی خدمت کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اربعین کا عظیم اجتماع دنیا بھر سے اہل بیتؑ اور امام حسینؑ کے چاہنے والوں کی وحدت، محبت اور امتِ مسلمہ کی طاقت کا مظہر ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی عوام نے ایک بار پھر اپنے حسنِ اخلاق، مہمان نوازی اور ایمانی تشخص کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے "حب الحسین یجمعنا" کے نعرے کو عملی شکل دی۔
جامعہ مدرسین نے کہا کہ اربعین کی عظیم الشان پیادہ روی اسلامی امت کے اقتدار اور اتحاد کی علامت ہے، اسی لیے دشمن قوتیں اس اجتماع کی حقیقت کو چھپانے یا اسے نقصان پہنچانے کی مسلسل کوشش کرتی رہی ہیں اور آئندہ بھی کرتی رہیں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں جب ایران، عراق، یمن اور لبنان سمیت محورِ مزاحمت کے مختلف محاذ دشمنوں کے مقابل کھڑے ہیں، مکتبِ حسینی کی بنیاد پر اسلامی اتحاد اور استکباری قوتوں کے خلاف مزاحمت کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
جامعہ مدرسین کے مطابق، عراقی، یمنی، لبنانی اور ایرانی مجاہدین کا خون ظلم کے خلاف جدوجہد کا تسلسل ہے اور یہ قربانیاں بالآخر دشمنانِ انسانیت کی شکست کا سبب بنیں گی۔
امریکہ کے خلاف جدوجہد عالمی محاذ قرار
بیان میں کہا گیا ہے کہ "امریکہ ایک مجرمانہ ریاست ہے جو پوری انسانیت کی دشمن ہے، اور آج امریکہ کے خلاف جدوجہد ایک عالمی محاذ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔"
جامعہ مدرسین نے مزید کہا کہ "امریکہ استکبار اور شیطانِ بزرگ کا واضح مصداق ہے، جو کسی بھی عہد و پیمان کا پابند نہیں، لہٰذا شیطان کے ساتھ کوئی بھی گفت و شنید یا مذاکرات امتِ مسلمہ کے مفاد کی ضمانت نہیں بن سکتے۔"
بیان میں کہا گیا کہ عوام اور مزاحمتی محاذ کے مجاہدین رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہیں اور شہداء کے خون کا بدلہ لینے اور مزاحمت کے راستے کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہیں۔
معارفِ حسینی سے حاصل ہونے والی معنویت کے تحفظ پر زور
جامعہ مدرسین نے اربعین سے حاصل ہونے والی روحانی اور اخلاقی اقدار کو محفوظ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور عوام سے رہبر معظم انقلاب کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ "اس دشمن کے ساتھ صلح، جو ایران کے خلاف مسلسل جارحیت اور دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے، ہرگز باعزت صلح نہیں ہو سکتی۔" بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ "مثلی لا یبایع مثل یزید" کا شعار ملت کے لیے مشعلِ راہ رہے گا اور حقیقی کامیابی حضرت امام حسینؑ کے عزت و استقامت کے راستے پر چلنے میں ہے۔
آپ کا تبصرہ