اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں نابلس کے علاقے قصرة اور طولکرم کے علاقے کور میں دو مساجد کو آگ لگانے کے صہیونی اقدام کی شدید مذمت کی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے اسرائیلی قابض حکومت کی براہِ راست حمایت کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ وزارت نے زور دیا کہ مذہبی مقامات اور فلسطینی شہریوں کی املاک کو بار بار نشانہ بنانا ایک خطرناک صورتحال ہے جسے روکنے کے لیے فوری عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ آبادکاروں کے جرائم "منظم انداز" میں جاری ہیں اور یہ اسرائیلی حکومت کی اشتعال انگیز، حمایتی اور سرپرستی پر مبنی پالیسیوں کا تسلسل ہیں۔ وزارت کے مطابق حملہ آوروں کو سزا سے استثنیٰ حاصل ہونے کی وجہ سے یہ تجاوزات مزید بڑھ رہی ہیں، جس سے مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزارت نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ آبادکاروں کے حملوں کو روکنے، ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے، فلسطینی عوام اور ان کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے "عملی اور پابند اقدامات" اٹھائیں۔
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خاتمے اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں، ان کی املاک اور عبادت گاہوں کے خلاف جاری حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
اس سے قبل اتوار کی صبح مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا، جبکہ اسی دوران آبادکاروں نے فلسطینی گھروں، گاڑیوں، مذہبی مقامات اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ صورتحال مغربی کنارے میں بڑھتی کشیدگی اور اسرائیلی جنگی کارروائیوں کے پھیلاؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ کا تبصرہ