اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انتون سعادہ کی برسی کی تقریب میں سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات سمیت مقامی حکام نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں انتون سعادہ کی زندگی اور جدوجہد پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔
بعلبک میں پارٹی کے ذمہ دار حسین الحاج حسن نے لبنان کو درپیش سنگین معاشی اور سماجی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے حکومت اور وزارتِ سماجی امور سے مطالبہ کیا کہ ضرورت مند خاندانوں اور بے گھر افراد کی مزید مدد کی جائے۔ انہوں نے عوامی مطالبات کو نظر انداز کرنے کے نتائج سے بھی خبردار کیا۔
اس موقع پر لبنان کی آڈیو ویژول میڈیا یونین کی سربراہ رندلی جبور نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں مزاحمت، بالخصوص حزب اللہ، کی حمایت کا اعادہ کیا۔ حسین نصراللہ نے انتون سعادہ کے نظریۂ قومی وحدت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض معاہدوں اور امریکہ و اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو لبنان کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے مزاحمت کے راستے پر ثابت قدم رہنے اور لبنان کے مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تحریک امل کے رہنما شیخ حسن المصری نے "فوج، عوام اور مزاحمت" کے اصول کو اسرائیلی خطرات سے نمٹنے کا مؤثر راستہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں مکمل جنگ بندی، قابض افواج کا انخلا، بے گھر افراد کی واپسی اور لبنان کی تعمیر نو یقینی نہ ہو۔
تقریب کے اختتام پر حزب سوری قومی اجتماعی کی سپریم کونسل کے سربراہ جارج دیب نے کہا کہ مزاحمت اسرائیلی جارحیت کا فطری جواب ہے۔ انہوں نے لبنان کی فوج کی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے اور ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے فوج، عوام اور مزاحمت کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آپ کا تبصرہ