اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور تجزیاتی رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع ہونے کے باوجود امریکہ اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث اسرائیلی حلقوں میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو توقع تھی کہ جنگ کی نئی لہر ایران کو دباؤ میں لے آئے گی، تاہم نہ صرف ایران نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی بلکہ صورتحال بھی اسرائیلی توقعات کے برعکس رہی۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی مایوسی کی دو بڑی وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ امریکی حملے ایران کو جھکانے میں ناکام رہے، اور دوسری یہ کہ موجودہ مرحلے میں اسرائیل کو جنگ میں مرکزی کردار نہیں ملا۔
عبرانی اخبار معاریو نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال زیادہ تر بیانات اور نفسیاتی جنگ تک محدود دکھائی دیتی ہے، جبکہ زمینی سطح پر طویل المدتی نتائج سامنے نہیں آئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں بعض سرنگوں کو تباہ کرنے کی اجازت کی منتظر ہے، لیکن سیاسی قیادت کی منظوری نہ ملنے کے باعث یہ کارروائی تاحال نہیں ہو سکی۔
معاریو کے مطابق امریکی حملوں میں اضافے کے باوجود ایران نہ تو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا اور نہ ہی اس کی حکومتی پالیسیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی آئی۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اپنی حکمت عملی برقرار رکھے ہوئے ہے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ دیگر اہم بحری راستوں پر بھی اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اس وقت طاقت کے مظاہرے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایران کے خلاف مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے، جبکہ ایران کے اپنے مؤقف میں تبدیلی کے امکانات نہ ہونے کے برابر سمجھے جا رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ