اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار گارڈین نے واشنگٹن سے صحافی ڈیوڈ اسمتھ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون گزشتہ کئی ماہ سے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصانات کی تفصیلات شفاف انداز میں جاری کرنے سے گریز کر رہا ہے، جس کے باعث اس پر جنگی نقصانات چھپانے کے الزامات لگ رہے ہیں۔
رپورٹ کے آغاز میں سابق امریکی وزیر دفاع اور سابق سی آئی اے سربراہ لیون پنیٹا کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پینٹاگون کا طرزِ عمل "شرمناک" ہے۔ ان کے بقول، امریکی محکمہ دفاع جان بوجھ کر جنگ سے متعلق معلومات عوام سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔
گارڈین کے مطابق، امریکی وزارتِ دفاع نے ڈھائی ماہ سے زائد عرصے سے کوئی باقاعدہ پریس بریفنگ نہیں کی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف اس جنگ کی حقیقی انسانی اور سیاسی قیمت عوام سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف جنگ میں 18 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 430 زخمی ہو چکے تھے۔ اخبار کے مطابق، پینٹاگون نے بعد ازاں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے زخمیوں کی تعداد تسلیم کی، حالانکہ ابتدا میں یہ معلومات عوام سے پوشیدہ رکھی گئی تھیں۔
گارڈین نے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھا کہ پینٹاگون نے پہلے زخمیوں کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ بعد میں اپنی ویب سائٹ پر ہلاک فوجیوں کی تعداد 18 سے کم کر کے 14 ظاہر کر دی، جسے وزارتِ دفاع نے "ڈیٹا میں عارضی خرابی" قرار دیا۔ تاہم اخبار کے مطابق ناقدین اسے محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی حکمتِ عملی سمجھتے ہیں۔
سابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ یہ معاملہ صرف حکومت اور میڈیا کے درمیان کشیدگی تک محدود نہیں بلکہ امریکی عوام کو جنگ کی اصل قیمت سے بے خبر رکھنے کی کوشش ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پینٹاگون نے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کی رسائی محدود کر دی اور ان کی جگہ حکومت کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا اداروں کو ترجیح دی۔ واشنگٹن میں رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے نمائندے کے مطابق، موجودہ پینٹاگون کا میڈیا کے ساتھ رویہ گزشتہ ادوار کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور مخاصمانہ ہے۔
گارڈین نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے رویے پر بھی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں وہ مسلسل پریس کانفرنسوں میں ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے تھے، لیکن اب وہ مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں سابق امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار جول روبن کا بھی حوالہ دیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ جنگ کی صورت حال پر حکومت کی غیر واضح پوزیشن اس بات کی علامت ہے کہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون خود بھی اس جنگ کے نتائج اور سیاسی اثرات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔
گارڈین کے مطابق، امریکی سینیٹ کی تخصیصی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں بھی جنگ کی مالی اور عسکری حکمتِ عملی پر شدید اختلافات سامنے آئے۔ اجلاس کے دوران ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو "مکمل ناکامی" قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے کہا کہ حکومت نہ تو اس جنگ کے لیے واضح حکمتِ عملی رکھتی ہے اور نہ ہی کامیابی کے لیے کوئی طویل المدت منصوبہ۔
آپ کا تبصرہ