25 جولائی 2026 - 16:31
ایران: شہید نعیمی اسٹیڈیم کو قومی ورثہ قرار دے کر "سیاحتی مرکزِ مزاحمت" بنایا جائے گا

صوبہ فارس کے محکمہ ثقافتی ورثہ کے ڈائریکٹر جنرل نے اعلان کیا ہے کہ لامرد کے شہید نعیمی اسٹیڈیم کو قومی ورثے میں شامل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق دشمن کے میزائل حملے میں 21 کھلاڑیوں کی شہادت کا یہ مقام ایران پر ڈھائے گئے مظالم کی ایک تاریخی دستاویز کے طور پر محفوظ کیا جائے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صوبہ فارس کے محکمہ ثقافتی ورثہ، سیاحت اور دستکاری کے ڈائریکٹر جنرل بہزاد مریدی نے لامرد میں جنگِ رمضان کے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات اور حملوں سے متاثرہ مقامات کے دورے کے دوران کہا کہ شہید نعیمی اسٹیڈیم کو قومی ورثہ قرار دینا دفاعِ مقدس کی اقدار کے تحفظ اور آئندہ نسلوں تک ایران پر ہونے والے مظالم کا پیغام پہنچانے کی ایک اہم کوشش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنگِ رمضان کے پہلے روز شام کے وقت جب لامرد کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شہید نعیمی اسٹیڈیم میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں مصروف تھے تو دشمن نے اس مقام کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔

بہزاد مریدی کے مطابق دستیاب رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ حملے میں چار میزائل استعمال کیے گئے، جن میں سے ہر ایک میں ایک لاکھ اسی ہزار سے زائد زہریلے چھرّے موجود تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں 21 افراد شہید جبکہ 170 سے زائد افراد زخمی اور معذور ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے بیشتر شہداء نوعمر کھلاڑی تھے، جس کے باعث شہید نعیمی اسٹیڈیم ایران کی تاریخ میں عوامی ایثار اور مظلومیت کی ایک دائمی علامت بن گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ثقافتی ورثے کی اصطلاح میں بعض مقامات اپنی عمارت کی قدامت کی وجہ سے نہیں بلکہ وہاں رونما ہونے والے تاریخی، ثقافتی یا قومی واقعات کی بنا پر غیرمعمولی اہمیت اختیار کرتے ہیں، اور شہید نعیمی اسٹیڈیم بھی اسی نوعیت کا ایک "واقعاتی مقام" ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ قومی سطح پر اس مقام کے اندراج سے اسے قانونی تحفظ حاصل ہوگا، اس کی اراضی اور حدود میں کسی قسم کی تبدیلی یا تجاوز کو روکا جا سکے گا، جبکہ یادگار کی تعمیر، اسٹیڈیم کی بحالی اور اسے ایک ثقافتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے قومی فنڈز بھی مختص کیے جا سکیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کا ایک اہم مقصد "سیاحتِ مزاحمت" کو فروغ دینا اور شہید نعیمی اسٹیڈیم کو راہیانِ نور کے قافلوں کی اہم منزل بنانا ہے، تاکہ دشمن کے جرائم کو دستاویزی شکل میں محفوظ کر کے آئندہ نسلوں اور محققین تک منتقل کیا جا سکے۔

بہزاد مریدی نے کہا کہ اس تاریخی مقام کی دستاویزات اور تحقیقی فائل شیراز یونیورسٹی کے رکنِ علمی بورڈ اور ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر علیرضا عسکری چاوردی تیار کر رہے ہیں، جسے مکمل ہونے کے بعد وزارتِ ثقافتی ورثہ، سیاحت و دستکاری کو ارسال کیا جائے گا تاکہ قومی آثار کی اعلیٰ کونسل اس کے اندراج کی منظوری دے سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha