اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے مغربی ایشیا میں امریکی فوج کے 9 فوجی اڈوں اور مراکز کو نشانہ بنایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب بھی مؤثر آپریشنل صلاحیت اور اعلیٰ درجے کی ہدفی درستگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اخبار کے مطابق ان حملوں کے نتائج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس دعوے کو سنجیدہ شکوک سے دوچار کر دیا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو فیصلہ کن نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔
فوجی تنصیبات اور سازوسامان کو نقصان
رپورٹ میں سیٹلائٹ اور فضائی تصاویر کے تجزیے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایرانی حملوں سے امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں، آپریشنل مراکز، ڈرون ہینگرز، ریڈار سسٹمز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا۔ اخبار نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی ہدف پر درست نشانے کی صلاحیت کو حالیہ کارروائیوں کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک قرار دیا۔
امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق اردن کے موفق السلطی فضائی اڈے پر حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ ایک فوجی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ اردن اور خطے کے دیگر ممالک میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران 12 امریکی فوجی شدید زخمی ہوئے، جنہیں مزید علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا۔
امریکی اڈے مسلسل نشانے پر
رپورٹ کے اختتام میں نیویارک ٹائمز نے کہا کہ جن چار فوجی اڈوں کو حالیہ حملوں میں نشانہ بنایا گیا، ان میں موفق السلطی فضائی اڈہ بھی شامل ہے، جس پر اس سے قبل بھی ابتدائی مراحل میں حملے ہو چکے تھے۔ اخبار کے مطابق اس وقت ایران نے خطے کے سات ممالک میں واقع امریکی افواج کے زیر استعمال 18 فوجی مراکز کو نشانہ بنایا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کی آپریشنل صلاحیت اور درست ہدف کو نشانہ بنانے کی طاقت بدستور برقرار ہے۔
آپ کا تبصرہ