23 جولائی 2026 - 16:10
ہم کیسا لبنان چاہتے ہیں؟ آزادیٔ صحافت وہ دفاعی حصار ہے جو نہیں ٹوٹنا چاہیے

ایک لبنانی مصنف نے ذرائع ابلاغ اور صحافیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اسے آزادیٔ اظہار کی اپنی تاریخی روایت برقرار رکھنے یا میڈیا پر پابندیوں کے ماڈل کی طرف بڑھنے میں سے ایک راستہ منتخب کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق آزاد صحافت کوئی سیاسی رعایت نہیں بلکہ شفافیت، احتساب اور سماجی استحکام کی بنیادی ضمانت ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی مصنف محمد دعیبس نے "ہم کیسا لبنان چاہتے ہیں؟" کے عنوان سے اپنے مضمون میں لکھا کہ لبنان کئی دہائیوں سے عرب دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا رہا ہے جہاں ذرائع ابلاغ کو نسبتاً آزادی حاصل رہی اور مختلف آرا کے اظہار کے ساتھ حکومتی کارکردگی پر تنقید کی گنجائش موجود تھی۔ ان کے بقول یہ خصوصیت، جو لبنان کی سیاسی اور سماجی شناخت کا اہم حصہ ہے، آج پہلے سے کہیں زیادہ خطرات سے دوچار ہے۔

صحافیوں پر دباؤ کے طریقے تبدیل ہو گئے

مصنف نے کہا کہ ایسے حالات میں جب نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے، صحافی اور میڈیا ہی حکمرانوں کو جوابدہ رکھنے کا آخری ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق اب صحافیوں پر دباؤ صرف دھمکیوں یا عدالتی مقدمات تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض ممالک کے طرز پر سوشل میڈیا پر منظم کردار کشی، میڈیا اداروں کو تھکا دینے کے لیے بیک وقت متعدد مقدمات کا اندراج، اور سائبر کرائم قوانین کو خبروں اور آراء کی اشاعت محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

آزاد صحافت کی خاموشی کا نقصان پورے معاشرے کو ہوگا

محمد دعیبس نے خبردار کیا کہ اس رجحان کے منفی اثرات صرف صحافیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرے گا۔ ان کے مطابق خوف اور خود سنسرشپ کا ماحول نئی نسل کے صحافیوں اور لکھاریوں کو اہم سوالات اٹھانے اور تنقیدی مضامین لکھنے سے روک دے گا، جس کے نتیجے میں شفافیت کمزور، بدعنوانی میں اضافہ اور عوامی اعتماد مجروح ہوگا۔

تنقید اور اختلافِ رائے ہی لبنان کی قوت ہیں

انہوں نے اپنے مضمون کے اختتام پر زور دیا کہ لبنان کا مستقبل آزادیٔ صحافت کے تحفظ اور تنقید و اختلافِ رائے کو قبول کرنے سے وابستہ ہے۔ ان کے بقول جو ریاست صحافیوں کا تحفظ کرنے کے بجائے انہیں دباؤ کا نشانہ بناتی ہے، وہاں بالآخر افواہیں بڑھتی ہیں، بدعنوانی مضبوط ہوتی ہے اور عوام کے جائز مطالبات کے اظہار کے قانونی راستے محدود ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادیٔ صحافت کا دفاع صرف صحافیوں کا مطالبہ نہیں بلکہ لبنان کی جمہوری زندگی، سماجی پائیداری اور مستقبل کے تحفظ کی ناگزیر ضرورت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha