23 جولائی 2026 - 16:09
صہیونی رپورٹ: امریکہ۔سعودی جوہری معاہدہ اسرائیل کے لیے تزویراتی نقصان بن سکتا ہے

صہیونی حکومت کی داخلی سلامتی کونسل کے سابق عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ، سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی معمول پر آنے کی پیش رفت کے بغیر آگے بڑھاتا ہے تو اس سے خطے میں جوہری پھیلاؤ کے خطرات بڑھ جائیں گے، جبکہ اسرائیل کو اس کے بدلے کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی حکومت کی داخلی سلامتی کونسل میں ایران اور خلیجی ممالک سے متعلق امور کے سابق سربراہ یوآل گوزنسکی نے عبرانی ویب سائٹ واللا میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدہ اسرائیل کے لیے شدید تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر واشنگٹن، ریاض کو مطلوبہ جوہری مراعات اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں کسی پیش رفت کے بغیر دے دیتا ہے تو اسرائیل کو تزویراتی خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ اسے متوقع سیاسی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوگا۔

خطے میں جوہری پھیلاؤ سے متعلق خدشات

گوزنسکی نے کہا کہ اصل تشویش سعودی عرب کے پرامن جوہری پروگرام سے نہیں بلکہ اسے یورینیم کی افزودگی (غنی سازی) کا حق دیے جانے سے ہے۔ ان کے بقول ایسا فیصلہ خطے میں ایک نئی مثال قائم کر سکتا ہے، جس سے متحدہ عرب امارات کے اس مؤقف کو کمزور کیا جائے گا جس کے تحت اس نے افزودگی سے دستبرداری اختیار کی تھی، جبکہ دیگر علاقائی ممالک بھی اسی نوعیت کے حقوق کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورت حال میں ایران کی یورینیم افزودگی کی مخالفت کے حوالے سے امریکہ کا مؤقف بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔

واشنگٹن کے ساتھ خفیہ سفارتی رابطوں کی تجویز

صہیونی عہدیدار نے سفارش کی کہ تل ابیب امریکہ یا سعودی عرب کے ساتھ کھلے تصادم کے بجائے واشنگٹن کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کے ذریعے معاہدے کی شرائط میں ایسی تبدیلیاں لانے کی کوشش کرے جن سے ممکنہ خطرات کم کیے جا سکیں۔ انہوں نے سخت نگرانی کے نظام، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے اضافی پروٹوکول پر عمل درآمد، یورینیم کی افزودگی اور ری پروسیسنگ پر پابندیوں، اور بیرونی ذرائع سے جوہری ایندھن کی فراہمی کو ضروری قرار دیا۔

سعودی۔اسرائیل تعلقات کی بحالی تل ابیب کی اولین ترجیح

گوزنسکی نے آخر میں کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کو مکمل طور پر روکنے کے امکانات کم ہیں، اس لیے اسرائیل کو چاہیے کہ وہ اس کی مخالفت کے بجائے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی معمول پر بحالی کو اس معاہدے کا بنیادی جزو بنانے کی کوشش کرے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ فلسطین کے معاملے میں بعض اقدامات اور امریکی حمایت کے ذریعے ایسا سہ فریقی معاہدہ ممکن بنایا جا سکتا ہے جو واشنگٹن، ریاض اور تل ابیب تینوں کے مفادات کو پورا کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha