20 جولائی 2026 - 17:21
ایران کے راستے چین سے افغانستان کے لیے پہلی براہِ راست ریلوے کھیپ پہنچ گئی

چین سے ایران کے راستے افغانستان کے لیے پہلی براہِ راست ریلوے مال بردار کھیپ کامیابی کے ساتھ ہرات پہنچ گئی ہے، جسے علاقائی ٹرانزٹ نیٹ ورک میں ایک نئے تجارتی راستے کے آغاز اور ایران کی ٹرانزٹ اہمیت میں اضافے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران۔افغانستان ریلوے کوریڈور کے ڈائریکٹر مصطفیٰ رضائی نے بتایا کہ 500 ٹن ایم ڈی ایف بورڈز پر مشتمل پہلی براہِ راست ریلوے کھیپ بیجنگ سے روانہ ہوئی، ترکمانستان سے گزرنے کے بعد ایران کے ریلوے نیٹ ورک میں داخل ہوئی اور بغیر دوبارہ اتارنے یا لوڈ کیے خواف–ہرات ریلوے کوریڈور کے ذریعے صوبہ ہرات کے روزنک ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت خواف–ہرات کوریڈور کی علاقائی تجارتی اہمیت کو مزید مستحکم کرے گی اور اس کے ذریعے چین کو وسطی ایشیا اور ایران کے راستے افغانستان سے جوڑنے میں مدد ملے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت قدیم شاہراہِ ریشم کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے اور ایران کو خطے میں ایک اہم ٹرانزٹ پل کے طور پر مزید مضبوط بناتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس نئے راستے سے افغانستان کو ایران کی جنوبی بندرگاہوں کے ذریعے آزاد سمندری راستوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے خشکی میں گھرے اس ملک کی بیرونی تجارت کے مواقع میں تنوع پیدا ہوگا۔

دوسری جانب ایران کے لیے اس راہداری کے ذریعے مال برداری کے حجم میں اضافہ، ٹرانزٹ آمدنی میں بہتری اور علاقائی مسابقت میں اس کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس راہداری کو مستقل اور مؤثر تجارتی کوریڈور میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، کسٹم نظام میں سہولت، سکیورٹی کے مؤثر انتظامات اور شمالی افغانستان کے ریلوے نیٹ ورک (ہرات–مزار شریف) سے رابطے کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق یہ کامیاب منتقلی ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، تاہم خطے کے ٹرانزٹ نقشے میں بنیادی تبدیلی کے لیے اس سلسلے کا تسلسل ناگزیر ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha