20 جولائی 2026 - 17:19
اسرائیلی اخبار ہاآرتص کے عسکری تجزیہ کار کا دعویٰ: ٹرمپ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں، بڑھتی کشیدگی کی قیمت اسرائیل چکائے گا

اسرائیلی اخبار ہاآرتص کے عسکری امور کے تجزیہ کار عاموس ہرئیل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بنیادی مقصد ایران کے ساتھ ہمہ گیر جنگ نہیں بلکہ تہران کو زیادہ سازگار شرائط پر دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے، تاہم ان کے بقول اسرائیل کو بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار ہاآرتص کے عسکری امور کے تجزیہ کار عاموس ہرئیل نے اپنے تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے اور دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس جواب دینے کے محدود آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ٹرمپ غالباً کسی وسیع جنگ میں داخل ہونے کے خواہاں نہیں، بلکہ فوجی دباؤ بڑھا کر ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ایران کے موجودہ مؤقف کو دیکھتے ہوئے اس مقصد کا حصول آسان دکھائی نہیں دیتا۔

عاموس ہرئیل نے مزید دعویٰ کیا کہ تہران کسی رعایت کے بغیر آبنائے ہرمز میں مکمل آزادیٔ جہاز رانی قبول نہیں کرے گا اور وہ پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی رہائی اور دیگر اقتصادی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

تجزیہ کار کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی انتخابات سے قبل ایک نئی عسکری کامیابی حاصل کرنے اور ہنگامی صورتحال پیدا کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم جنگ کا دائرہ وسیع ہونا لازماً اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہوگا، کیونکہ ایسی صورت میں اسرائیل کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ اس کے سیاسی یا عسکری فوائد غیر یقینی رہیں گے۔

عاموس ہرئیل نے یہ بھی کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ، خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے امکانات، اور سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کے معاہدے کی جانب واشنگٹن کی پیش رفت—جسے ریاض اور تل ابیب کے تعلقات کی معمول پر آنے کی شرط سے الگ رکھا جا رہا ہے—علاقائی صورتحال میں اہم پیش رفت شمار کی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha