20 جولائی 2026 - 17:12
نئے سروے میں نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی مقبولیت میں مزید کمی

مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے تازہ ترین سروے کے نتائج کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے حکمران اتحاد کی مقبولیت میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جبکہ جنگ، معیشت اور داخلی سلامتی کے شعبوں میں حکومت کی کارکردگی پر عوامی عدم اطمینان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کے تازہ سروے میں گادی آیزنکوٹ کی قیادت میں قائم "یشار" پارٹی 22 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر آ گئی ہے، جبکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود گزشتہ سروے کے مقابلے میں دو نشستیں کھو کر 21 نشستوں تک محدود ہو گئی ہے۔

سروے کے مطابق نفتالی بینیٹ کی قیادت میں "معاً" پارٹی اپنی 15 نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، جبکہ ہیلی تروپر اور یوعز ہینڈل کی قیادت میں قائم نئی جماعت پہلی مرتبہ کنیسٹ میں داخلے کے لیے درکار انتخابی حد عبور کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کے حامی اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 51 نشستیں ہیں، جو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے کم ہیں۔ سروے کے ایک دوسرے ممکنہ منظرنامے میں نئی دائیں بازو کی جماعتوں کی شمولیت کے بعد یہ تعداد مزید کم ہو کر 48 نشستیں رہ جاتی ہے۔

سروے میں حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بھی عوامی رائے لی گئی، جس میں اکثریت نے جنگی حکمت عملی، اقتصادی صورتحال، داخلی سلامتی اور 7 اکتوبر کے حملے سے متعلق معاملات سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ، نصف سے زیادہ شرکاء کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطین کی موجودہ صورتحال چار سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خراب ہو چکی ہے، جو آئندہ انتخابات سے قبل اسرائیلی سیاسی منظرنامے میں مسلسل تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha