19 جولائی 2026 - 17:10
چین اور افریقہ کے درمیان لین دین میں ڈالر کا کردار کم ہوگا، چینی ادائیگی نظام سے وابستگی میں اضافہ

لیبیا اور چین کے مرکزی بینکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت لیبیا کے تجارتی بینک چین کے سرحد پار بین البینک ادائیگی نظام (CIPS) سے منسلک ہوں گے، جس سے مالیاتی لین دین آسان ہوگا اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لیبیا کے مرکزی بینک کے سربراہ ناجی محمد عیسیٰ اور چین کے مرکزی بینک کے سربراہ پان گونگ شنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں مالیاتی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

لیبیا کے مرکزی بینک کے بیان کے مطابق، دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے سربراہان نے دو طرفہ تجارتی اور مالی تعلقات، ان کے فروغ کے طریقوں اور بینکاری تعاون کے نئے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے درمیان حقیقی تزویراتی شراکت داری کے نئے مرحلے کے آغاز کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ لیبیا کے تجارتی بینک چین کے سرحد پار بین البینک ادائیگی نظام (CIPS) سے منسلک ہوں گے، جس سے بینکاری اور مالیاتی منتقلی کے عمل میں آسانی پیدا ہوگی۔

لیبیا کے مرکزی بینک کے مطابق، اس معاہدے میں چینی بانڈ مارکیٹ میں داخل ہو کر لیبیا کی سرمایہ کاری کو متنوع بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

دونوں فریقوں نے کہا کہ چین کے ادائیگی نظام سے وابستگی سے تجارتی اور مالی لین دین کو سہولت ملے گی اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، لیبیا اپنے بینکاری شعبے کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اسی سلسلے میں لیبیا کے مرکزی بینک کے سربراہ نے چینی حکام کے ساتھ مالیاتی بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر بھی بات چیت کی۔

دونوں ممالک نے آئندہ سال چین-افریقہ فورم کے موقع پر مشترکہ بینکاری اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

چین نے سرحد پار بین البینک ادائیگی نظام (CIPS) کو 2015 میں چینی کرنسی یوان کے ذریعے عالمی مالیاتی منتقلی کو آسان بنانے کے مقصد سے قائم کیا تھا۔ یہ نظام چین اور دیگر ممالک کے بینکوں کو درمیانی بینکوں کے بغیر براہِ راست یوان میں ادائیگی اور وصولی کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے امریکی ڈالر پر انحصار کم ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جنوبی افریقہ کے اسٹینڈرڈ بینک نے دسمبر 2025 میں چین کے اس مالیاتی نظام سے منسلک ہونے والا پہلا افریقی بینک بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق افریقی بینکوں کی اس نظام میں شمولیت چین اور افریقہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی، کیونکہ اس سے عالمی تجارت میں ڈالر کو ایک رکاوٹ کے طور پر کم کیا جا سکے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha