اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، دو امریکی انسانی حقوق کی تنظیموں نے وفاقی عدالتِ نیویارک میں دائر مقدمے میں مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 2025 میں جاری کیا گیا وہ صدارتی حکم نامہ معطل کیا جائے، جس کے تحت عالمی فوجداری عدالت کے ججوں، استغاثہ کے حکام اور عدالت سے تعاون کرنے والے بعض اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ ممکنہ قانونی و معاشی پابندیوں کے خوف سے انہوں نے عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ تعاون اور اس ادارے کو دستاویزات و معلومات فراہم کرنا بند کر دیا ہے۔ ان میں سے ایک تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ معاشی پابندیوں کو انسانی حقوق کے کارکنوں کی سرگرمیاں محدود کرنے اور آزادیِ اظہار پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت عالمی فوجداری عدالت کو اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے اہلکاروں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین اور ہالینڈ نے عالمی فوجداری عدالت کی حمایت کرتے ہوئے بین الاقوامی عدالتی اداروں کی آزادی برقرار رکھنے اور ان پر کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ