14 جولائی 2026 - 16:56
جرمنی میں اسرائیل کے "حقِ وجود" سے انکار کو جرم قرار دینے کا بل منظور، مخالفین کو 5 سال تک قید کی تجویز

جرمنی کے ایوانِ بالا (بوندس راٹ) نے ایک ایسا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسرائیل کے "حقِ وجود" سے عوامی طور پر انکار یا اس کے خاتمے کا مطالبہ جرم قرار دیا جائے گا۔ مجوزہ قانون میں اس جرم کی سزا پانچ سال تک قید مقرر کی گئی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین قانون نے اسے آزادیٔ اظہار اور آئین سے متصادم قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جرمنی کے ایوانِ بالا بوندس راٹ نے حال ہی میں ایک بل کی منظوری دی ہے، جس کے مطابق اسرائیل کے "حقِ وجود" سے عوامی طور پر انکار یا اس کے خاتمے کا مطالبہ جرم تصور کیا جائے گا، جس کی سزا پانچ سال تک قید ہو سکتی ہے۔

ریاست ہیسن کی جانب سے پیش کیے گئے اس بل کو اب حتمی منظوری کے لیے جرمن پارلیمان کے ایوانِ زیریں بوندس ٹاگ بھیجا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برلن فلسطین کے حامی حلقوں کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید سخت کر رہا ہے، جبکہ اب تک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم بھی نہیں کیا ہے۔

اگر یہ بل حتمی طور پر منظور ہو جاتا ہے تو جرمنی اسرائیل کے "حقِ وجود" سے انکار کو باقاعدہ جرم قرار دینے والا پہلا یورپی ملک بن جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی جرمن فوجداری قانون کی دفعہ 130 کے دائرۂ کار کو بھی وسعت دی جائے گی، جسے اس وقت ہولوکاسٹ سے انکار کے مقدمات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم جرمن پارلیمان کے ایوانِ زیریں کے تحقیقی مرکز نے اپنی قانونی رائے میں خبردار کیا ہے کہ یہ تجویز ممکنہ طور پر جرمنی کے آئین سے متصادم ہے۔ ادارے کے مطابق یہ بل ایک مخصوص نظریے کے لیے خصوصی قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 5 میں دی گئی آزادیٔ اظہار کی ضمانت سے متصادم ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور آزادیٔ اظہار کے حامی دیگر اداروں نے بھی اس بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جرمن آئین میں دی گئی بنیادی آزادیوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

غزہ میں صہیونی حکومت کی کارروائیوں کے بعد جرمنی میں عوام کی ایک بڑی تعداد اپنی حکومت کی اسرائیل نواز پالیسیوں سے اختلاف رکھتی ہے، تاہم اس کے باوجود جرمنی، امریکہ کے بعد اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔

اسی دوران جرمن حکومت نے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرنے والی تحریکوں پر بھی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں اور تقریبات پر پابندیوں، نیز حامی تنظیموں کی نگرانی میں اضافے کے ذریعے حکومت نے زیادہ سخت پالیسی اختیار کر لی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha