اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن اور حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک کے رکن حسین جشی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ فوجی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
حسین جشی نے خطے کی تازہ صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول امریکہ اور اسرائیل ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں اپنے اہم اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نظام، اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام، نیز محورِ مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں موجودہ پیش رفت کو نئی جنگ کی تیاری کے بجائے امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ان کے مطابق واشنگٹن فوجی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے اپنی شرائط منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
حسین جشی نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات سے متعلق بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے براہِ راست مذاکرات پر آمادگی ایسے انتظامات سے ہٹنے کے لیے ظاہر کی جن میں لبنان میں مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا پر زور دیا گیا تھا۔
انہوں نے لبنانی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے سابقہ سفارتی پیش رفت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ایسے معاہدے کی طرف پیش قدمی کی جو ان کے بقول لبنان کے مفادات کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش نہیں کیں، اس لیے صدر اور وزیرِ اعظم کو اس حوالے سے وضاحت کرنی چاہیے۔
جشی نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ واقعی لبنان کے قومی مفاد میں ہے تو اس کی تمام شقیں عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومتی پالیسی لبنان کی خودمختاری اور قومی حقوق کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر حسین جشی نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ایسے معاہدے کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا جسے انہوں نے "ہتھیار ڈالنے کا معاہدہ" قرار دیا، اور کہا کہ جب تک اسرائیل کی جانب سے جارحیت اور قبضہ جاری رہے گا، حزب اللہ اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے مؤقف پر قائم رہے گی۔
آپ کا تبصرہ