13 جولائی 2026 - 16:23
آبنائے ہرمز میں کشیدگی؛ خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ، بحری آمدورفت میں نمایاں کمی

امریکہ کے ایران پر نئے حملوں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 4.2 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 79.2 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل (WTI) 4.3 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 74.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

ادھر امریکی ڈالر کی قدر اور امریکی حکومتی بانڈز کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایشیائی بازاروں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ دوسری جانب سونا، چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم سمیت قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی، جس کی وجہ مہنگائی میں اضافے اور سخت مالیاتی پالیسیوں کے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی "کیپلر" کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز صرف چھ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ایک دن میں گزرنے والے جہازوں کی سب سے کم تعداد ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض آئل ٹینکروں نے آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت اپنے خودکار شناختی نظام (AIS) بند کر دیے، جبکہ ہفتے کے آغاز پر مائع قدرتی گیس (LNG) لے جانے والا کوئی جہاز بھی اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں بعض اہداف پر نئے حملوں کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہاز رانی کے لیے بدستور کھلی ہے، تاہم سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے اپنے شناختی نظام بند کرنے والے دو جہازوں کو آبنائے ہرمز میں تحویل میں لے لیا ہے۔ ان واقعات کے بعد عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی منڈیوں کے استحکام کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha