17 جولائی 2026 - 15:49
امریکی حملوں میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے، اقوام متحدہ میں ایران

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام خط میں ایران کے خلاف امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری بنیادی ڈھانچے کو دانستہ نشانہ بنانا اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ایروانی نے اپنے خط میں لکھا کہ 8 جولائی سے 16 جولائی 2026 تک امریکہ نے ایران کے مختلف علاقوں، بالخصوص جنوبی صوبوں، ساحلی شہروں اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز سے متصل بندرگاہوں پر وسیع پیمانے پر حملے کیے۔ ان حملوں میں بندرعباس، بوشہر، اہواز، چابہار، کنارک، جاسک، سیریک، ایرانشہر، ابو موسیٰ جزیرہ اور جزیرہ تنبِ بزرگ سمیت متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 16 جولائی کی صبح شیراز، خرم آباد، سمنان، ارومیہ اور ہمدان پر بھی حملے کیے گئے، جن میں بندرگاہوں، مواصلاتی نظام، نقل و حمل کے مراکز، لاجسٹک تنصیبات، ریڈار سسٹمز، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

خط کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیاں، سمندری نقل و حمل، امدادی خدمات اور شہری زندگی شدید متاثر ہوئی، جبکہ حالیہ حملوں میں 35 سے زائد افراد شہید اور 260 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ شہداء میں عام شہری، امدادی کارکن، فائر فائٹرز، ماحولیات کے محافظ اور ماہی گیر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 8 جولائی کو ایرانشہر ایئرپورٹ پر امریکی حملے کے بعد امدادی کارروائی میں مصروف ایک فائر فائٹر شہید ہوگیا، جبکہ 14 جولائی کو صوبہ ہرمزگان میں ایک ماحولیات محافظ کے خاندان کے تین افراد امریکی حملے میں جان سے گئے۔

ایروانی نے مزید بتایا کہ 15 جولائی کو صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے بمپور میں ایرانی بری فوج کی بیرک اور رہائشی عمارت پر میزائل حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سات اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز اہواز کے شہید بقائی اسپتال کے اطراف بھی امریکی فضائی حملے کیے گئے، جس سے اسپتال کو نقصان پہنچا اور مریضوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ ان کے مطابق یہ اسپتال سرطان اور خون کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کے علاج کا اہم مرکز ہے اور اسے نشانہ بنانا جنگی جرم اور نہایت قابل مذمت اقدام ہے۔

ایروانی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ نے گندم ذخیرہ کرنے کے مرکز، معدنی پانی بنانے کے کارخانے اور چابہار کے میری ٹائم کنٹرول ٹاور سمیت متعدد شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جس کا مقصد شہری زندگی اور بین الاقوامی بحری تجارت کو متاثر کرنا تھا۔

انہوں نے زور دیا کہ شہری اہداف اور بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے مترادف ہیں، جن کی مکمل بین الاقوامی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

ایرانی مندوب نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کی مبینہ جارحیت روکنے، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha